حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے عوام کو حیران و پریشان کر دیا

جہلم شہر کی سماجی، رفاعی، فلاحی اور کارروباری تنظیموں کے عمائدین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے عوام کو حیران و پریشان کر دیا۔

فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے عمائدین کا کہنا تھا حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ میں آکر 2 وقت کی روٹی کا نوالہ چھیننے کے درپے ہے۔ حکومت نے دو روز قبل مختلف سیکٹرز کیلئے گیس کی قیمتوں میں 16 سے 124 فیصد اضافے کا اعلان کیا جو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر عمل درآمد ہے، گیس کمپنیوں کو چھ ماہ میں تین سو دس ارب روپے کا ریونیو حاصل کرنا ہوگا۔

فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے عمائدین نے کہا کہ اول تو گیس دستیاب ہی نہیں اور اگر دستیاب ہے تو حکومت آئے روز قیمتوں میں اضافہ کر کے اسے عام آدمی کیلئے نا قابل استعمال بنارہی ہے۔ گیس کی عدم دستیابی اور قیمتوں میں ہوشربا اضافوں کے باعث شہری کمرشل سلنڈرز استعمال کرنے پر مجبور ہیں جو کہ اب قوت خرید سے باہر ہو رہے ہیں۔

دوسری طرف نان بائیوں نے بات کرتے ہوئے گیس اور آٹے کی قیمتوں میں اضافوں کے سبب روٹی کی قیمت مزید مہنگی ہونے کا عندیہ دیدیا ہے جس کا بوجھ عام آدمی پر پڑے گا۔

حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونیوالے مذاکرات تعطل کا شکار تھے حکومت بار بار اس بات کا اظہار کر چکی ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ بہت سخت اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کر رہا ہے تاہم اب حکومت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button