جہلم: سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی جہلم شہر اور مضافاتی علاقوں کے بازاروں میں خشک میوہ جات کی رنگ برنگی دکانیں سج گئی ہیں، تاہم مہنگائی کے طوفان نے عام شہریوں کی پہنچ کو ان لذیذ غذاؤں سے دور کر دیا ہے۔
دکانداروں نے بادام، پستہ، کاجو، اخروٹ، چلغوزے، اور دیگر میوہ جات کے اسٹالز تو سجا دیے ہیں مگر قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے خریداری کو مشکل بنا دیا ہے۔
جہلم شہر کے معروف تجارتی علاقوں مین بازار، تحصیل روڈ، شاندار چوک، ڈھوک جمعہ روڈ، ریلوے روڈ اور کینٹ بازار میں خشک میوہ جات کی دکانیں سج چکی ہیں۔ مگر ان کی قیمتیں عام خریدار کی پہنچ سے بہت دور جا چکی ہیں۔
شہریوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ خشک میوہ جات کی موجودہ قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا یا بعض اوقات تین گنا تک بڑھ چکی ہیں، جس سے خریداری ایک خواب بن گئی ہے۔
شہری چوہدری تصور حسین، شہریار علی، راجہ عبدالغفار، دانیال عابد سمیت دیگر نے کہا کہ "خشک میوہ جات اب صرف امیروں کی خوراک بن چکے ہیں، عام آدمی کے لیے انہیں خریدنا ممکن نہیں رہا۔” ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو چاہیے کہ خشک میوہ جات کے نرخ نامے سرکاری سطح پر مقرر کرے تاکہ غریب اور سفید پوش طبقہ بھی اپنے بچوں کو سردیوں میں غذائیت سے بھرپور یہ نعمتیں مہیا کر سکے۔
عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ مارکیٹ میں مصنوعی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کرے اور خشک میوہ فروخت کرنے والے دکانداروں کو بھی سرکاری نرخوں کے دائرے میں شامل کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
