جہلم: ضلع جہلم میں پانچ ماہ سے بارشیں نہ ہونے کے باعث خشک سالی نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے، جس کی وجہ سے گندم اور دیگر فصلوں کی تباہی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ خشک سردی کے باعث نزلہ، زکام، کھانسی، گلے کی خرابی اور بخار کے مریضوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کا ثبوت اسپتالوں میں مریضوں کا بڑھتا ہوا رش ہے۔
خشک سالی سے پریشان عوام نے گزشتہ روز جہلم شہر اور مضافاتی علاقوں میں نماز استسقاء ادا کی، جس میں شہریوں نے اللہ تعالیٰ سے بارش کے لیے دعا کی۔ نماز استسقاء میں علماء کرام نے بھی شرکت کی اور لوگوں کو اللہ کی طرف رجوع کرنے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی تلقین کی۔
بارش نہ ہونے کے سبب گندم سمیت دیگر فصلیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ کسانوں نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری بارش نہ ہوئی تو فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے جو نہ صرف زراعت بلکہ معیشت پر بھی گہرا اثر ڈالے گا۔
دوسری جانب تعلیمی اداروں میں ہیٹنگ کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ و طالبات شدید سردی میں ٹھٹھرنے پر مجبور ہیں۔ کئی والدین نے تعلیمی اداروں میں ہیٹرز کی عدم دستیابی پر انتظامیہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
خشک سردی کی وجہ سے اسپتالوں میں سانس کی بیماریوں، نمونیہ اور دیگر موسمی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سخت سردی سے بچنے کے لیے گرم کپڑے پہنیں اور اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں۔
