شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ؛ چارجنگ اور ڈی سی پنکھوں کی مانگ میں اضافہ، شہری متبادل ذرائع پر انحصار کرنے لگے

جہلم: شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کے باعث جہلم سمیت ملک بھر میں شہریوں نے بجلی کے متبادل ذرائع کی تلاش شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں 12 وولٹ (ڈی سی) چارجنگ پنکھوں کی مانگ اور خریداری میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایسے پنکھے جو بیٹری، سولر سسٹم یا چارجنگ کے ذریعے چل سکتے ہیں، شہریوں کی پہلی ترجیح بن گئے ہیں، کیونکہ یہ لوڈشیڈنگ کے دوران بھی مسلسل ہوا فراہم کرتے ہیں۔

دوسری جانب جہلم سمیت مختلف شہروں میں سولر اور چارجنگ پنکھوں کی قیمتوں میں بھی دکانداروں کی جانب سے خودساختہ اضافہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق AC/DC انورٹر پنکھے بجلی کی کم کھپت اور متبادل توانائی پر چلنے کی صلاحیت کے باعث عوام میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، کیونکہ یہ بجلی کے بلوں میں کمی کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ کے دوران بھی کئی گھنٹے چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے “روشن پنکھا پروگرام” کے تحت 10 ملین پرانے پنکھوں کو توانائی بچانے والے ڈی سی پنکھوں سے تبدیل کرنے کی اسکیم پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ گرمی اور بجلی کی غیر یقینی صورتحال میں سولر اور چارجنگ پنکھے ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں، تاہم حکومت کو قیمتوں میں مصنوعی اضافے کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ عام صارفین کو ریلیف مل سکے۔

Exit mobile version