کم سن بچوں پر مقدمات، کیا مسئلے کا یہی حل ہے؟

جہلم میں پتنگ بازی کے خلاف پولیس کی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سات سال سے لے کر تیرہ سال تک کے بچوں پر بھی پتنگ بازی کے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ پتنگ بازی، بالخصوص کیمیکل ڈور کے استعمال نے ماضی میں کئی قیمتی جانیں لی ہیں اور متعدد افراد کو زخمی بھی کیا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت اور پولیس کی جانب سے پابندی لگانا ایک حد تک ضروری اور عوامی مفاد میں قرار دیا جا سکتا ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اتنی کم عمر بچوں پر فوجداری مقدمات درج کرنا مسئلے کا درست حل ہے؟ حال ہی میں مجھے ایک تھانے جانے کا موقع ملا، جہاں میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے بچوں کو دیکھا جو ابھی کھیلنے کودنے کی عمر میں ہیں مگر ان کے نام پولیس ریکارڈ میں بطور ملزم درج ہو چکے ہیں۔ یہ منظر نہ صرف حیران کن تھا بلکہ معاشرتی لحاظ سے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

کم عمر بچے اکثر اپنی حرکتوں کے قانونی اور سماجی نتائج سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔ ان کے لیے کھیل کود فطری عمل ہے، جس میں وہ تفریح تلاش کرتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ قانون کی عملداری ضروری ہے، لیکن قانون کے نفاذ میں توازن بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ کم عمر بچوں پر مقدمات درج ہونے سے ان کے ذہنوں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف منفی تاثر پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ مستقبل میں یہی بچے معاشرے کا حصہ بن کر ذمہ دار شہری بننے کی بجائے خوف یا نفرت کے جذبات لے کر پروان چڑھ سکتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کے معاملے میں سزا کے بجائے اصلاح اور آگاہی کو ترجیح دی جائے۔ والدین، اساتذہ اور مقامی کمیونٹی کو بھی اس مسئلے میں شامل کرنا چاہیے۔ اسکولوں میں آگاہی مہم چلائی جا سکتی ہے، بچوں کو پتنگ بازی کے نقصانات سے آگاہ کیا جا سکتا ہے اور متبادل کھیلوں کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔ پولیس اگر بچوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کے بجائے ان کے والدین کو طلب کر کے تنبیہ کرے اور تربیتی انداز اختیار کرے تو شاید بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

معاشرہ صرف قانون سے نہیں بلکہ حکمت، برداشت اور تربیت سے بھی چلتا ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو محفوظ اور مثبت ماحول فراہم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سزا اور اصلاح کے درمیان درست توازن قائم کرنا ہوگا۔ پتنگ بازی کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے، لیکن بچوں کے مستقبل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

یہی وہ سوچ ہے جو ایک بہتر اور ذمہ دار معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button