جہلم میں سبزیوں اور پھلوں کی گراں فروشی کنٹرول کرنے کیلئے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں8ویں روزے کو بھی سبزیوں اور پھلوں کی گراں فروشی کنٹرول کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی پیش رفت نہ ہوئی جس کی وجہ سے بیشتر علاقوں میں پرچون سطح پر دکانداروں نے پھلوں اور سبزیوں کی گراں فروشی کر کے صارفین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔

صارفین نے رابطہ کر کے بتایا کہ سرکاری نرخنامے کے مطابق سبزیوں میں ایک کلو آلو کچا چھلکا نیا درجہ اول کی سرکاری قیمت 55روپے فی کلو مقرر تھی جبکہ دکانداروں نے 75روپے تک فروخت کئے۔

آلو کچا چھلکا نیا درجہ دوم 52روپے کی بجائے 70روپے، پیاز درجہ اول 185روپے کی بجائے270 روپے، پیاز درجہ دوم 180 کی بجائے250، ٹماٹر درجہ اول105 کی بجائے150روپے، ٹماٹر درجہ دوم100کی بجائے140روپے، لہسن چائنہ 590 روپے کی بجائے 650، ادرک تھائی لینڈ520روپے کی بجائے690تک فروخت کی گئی۔

کھیرا فارمی75روپے کی بجائے 140 روپے ،میتھی25کی بجائے50روپے، بینگن120کی بجائے 150، بند گوبھی100کی بجائے140، پھول گوبھی120کی بجائے150،شملہ مرچ250کی بجائے300،شلجم 40روپے کی بجائے60روپے، مٹر75کی بجائے90، سبز مرچ دیسی 270کی بجائے350تک فروخت کی گئی۔

لیموں چائنہ110کی بجائے170،مونگرے90 کی بجائے150، مولی18کی بجائے30روپے، پالک 28روپے کی بجائے50روپے،گاجر 45کی بجائے70روپے تک فروخت کی گئی۔

پھلوں میں ایک کلوسیب کالا کولو پہاڑی درجہ اول330کی بجائے400،کیلا درجہ اول درجن 240کی بجائے290،کیلا درجہ دو م درجن230کی بجائے250،انار قندھاری400کی بجائے500،مسمی درجن120کی بجائے200،کینو درجن160کی بجائے250روپے،کینو درجہ دوم درجن155کی بجائے 230، سٹرابری درجہ اول 410کی بجائے550اور کھجور ایرانی460 روپے کی بجائے650روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جاتی رہی ۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button