جہلم میں 6 گھنٹوں کے دوران خودکشی کے 3 واقعات، 2 افراد جاں بحق، خاتون کی حالت تشویشناک

جہلم شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے خودکشی کے تین افسوسناک واقعات میں دو افراد جاں بحق جبکہ ایک خاتون کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس اور اسپتال ذرائع کے مطابق پہلا واقعہ رمضان پورہ میں پیش آیا جہاں 43 سالہ عتیق ارشد نے مبینہ طور پر قرض اور مالی پریشانی سے دلبرداشتہ ہو کر زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

پولیس کے مطابق متوفی کا لین دین کا معاملہ تھا جبکہ مرنے سے قبل دیے گئے بیان میں اس نے بتایا کہ وہ 20 لاکھ روپے کے قرض کی ادائیگی کی پریشانی میں مبتلا تھا، جس کے باعث اس نے گندم میں رکھنے والی زہریلی گولیاں کھائیں۔

دوسرا واقعہ محلہ اسلامیہ سکول میں پیش آیا جہاں 25 سالہ نوجوان نے مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ پولیس کے مطابق نوجوان نے والدہ سے جھگڑے کے بعد یہ انتہائی اقدام اٹھایا۔

تیسرا واقعہ تھانہ چوٹالہ کے علاقے میں پیش آیا جہاں 35 سالہ خاتون نے گھریلو ناچاقی پر زہریلی گولیاں کھا لیں۔ خاتون کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق صرف 6 گھنٹوں کے دوران سول اسپتال میں خودکشی کے تین واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔

پولیس نے واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

Exit mobile version