تاریخ گواہ ہے ہمیشہ سے عدلیہ ہی مضبوط رہی، فواد چوہدری

فواد چوہدری کی پنجاب میں درج مقدمات میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے ہمیشہ سے عدلیہ ہی مضبوط رہی ہے۔

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ سراؤں کے بارے میں لوگوں کو معلومات کم ہے، انہوں نے ترکیہ میں حکومتیں تبدیل کی ہیں، اب بھی یہ نا ہو کہ خواجہ سراؤں کے چکر میں حکومتیں بدل جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ترجمان پی ٹی آئی رؤف حسن پر حملے کی مذمت کرتا ہوں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ میں نے استحکام پاکستان پارٹی کبھی جوائن ہی نہیں کی تھی، یہ سب کو پتا ہے کہ میں نےاستحکام پارٹی جوائن نہیں کی اس کی ترید کیا کروں۔

صحافی نے فواد چوہدری سے سوال پوچھا کہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی میں کون مضبوط ہے، جس پر انہوں نے جواب دیاکہ تاریخ گواہ ہے ہمیشہ سے عدلیہ ہی مضبوط رہی ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پیمرا نوٹیفکیشن اوپن ٹرائل کو بند کرنےکے مترادف ہے، ایسے مشورے دینے والوں کو احتیاط کرنی چاہیے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو اجلاس کرنا چاہیے اور اپنی پوزیشن کلیئر کریں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اس ملک کی سیاست کے شطرنج کے بادشاہ ہیں۔

فواد چوہدری کی پنجاب میں درج مقدمات میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی پنجاب بھر میں درج مقدمات میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی، لاہور ہائی کورٹ نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔

واضح رہے کہ 25 مئی کو لاہور ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی 9 مئی کے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے سمیت دیگر الزامات کے تحت پنجاب بھر میں درج مقدمات میں ویڈیو لنک پر حاضری کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی تھی۔

یاد رہے کہ فواد چوہدری کے خلاف پنجاب کے مختلف شہریوں میں 36 مقدمات درج ہیں جن میں پیشی کے لیے انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست دائر کی تھی۔

اس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ فواد چوہدری کے خلاف پنجاب بھر میں 36 مقدمات درج ہیں، اس میں استدعا کی گئی کہ عدالتوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سابق رہنما کو 5 اپریل کو للِہ تا جہلم ڈیول کیرج وے پروجیکٹ میں خوردبُرد کے کیس میں اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے یکم اپریل کو مذکورہ کیس میں ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

فواد چوہدری نیب کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید تھے اور انہوں نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔

Exit mobile version