جہلم شہر اور گردونواح میں مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر کی اصل وجہ سامنے آ گئی، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے شدید گرمی اور حبس سے بچنے کے لیے خود فیلڈ میں جانے سے گریز شروع کر دیا ہے اور مبینہ طور پر درجہ چہارم کے ملازمین کو مجسٹریٹ کی اضافی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بیشتر پرائس کنٹرول مجسٹریٹس دفاتر میں موجود رہتے ہیں جبکہ ان کے ماتحت ملازمین فیلڈ میں چالان اور جرمانے کی رسید بک استعمال کرتے ہوئے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس غیرقانونی عمل کے نتیجے میں منظور نظر دکانداروں اور چھابڑی فروشوں کو گرانفروشی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، جس سے شہر اور ضلع بھر میں مصنوعی مہنگائی کی لہر تیز ہو گئی ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی عدم دلچسپی اور سیاسی کشمکش کے باعث ضلع بھر میں نرخ ناموں پر عملدرآمد خواب بن چکا ہے اور عام شہری مہنگائی کے ہاتھوں شدید پریشان ہیں۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرائس کنٹرول کے نظام کو فعال اور شفاف بنانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
