جہلم شہر سمیت گردونواح میں انٹرنیٹ سروس کی ناقص صورتحال شہریوں، طلبہ، فری لانسرز اور کاروباری طبقے کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ضلع بھر میں مختلف انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں، بالخصوص پی ٹی سی ایل اور دیگر کمپنیوں کی سروسز کے حوالے سے صارفین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی بجلی بند ہوتی ہے، انٹرنیٹ سروس فوری طور پر غائب ہو جاتی ہے اور کئی گھنٹوں تک بحال نہیں ہو پاتی، جس کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش کے ساتھ ہی انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہو جاتی ہے، جس سے روزمرہ کے امور، آن لائن تعلیم، کاروباری سرگرمیاں اور سرکاری و نجی معاملات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں کے مطابق جدید دور میں جہاں متبادل توانائی کے ذرائع اور بیک اپ سسٹمز کے ذریعے سروسز کو بلاتعطل جاری رکھا جا سکتا ہے، وہاں جہلم میں انٹرنیٹ ایکسچینجز اور موبائل ٹاورز پر مؤثر بیک اپ نظام فعال نہ ہونے کے باعث صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔
صارفین نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ ایکسچینجز اور ٹاورز پر تعینات عملہ مبینہ طور پر جنریٹرز اور بیٹری بیک اپ سسٹمز کو بروقت فعال رکھنے میں غفلت برتتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی بند ہوتے ہی پورا نظام مفلوج ہو جاتا ہے اور صارفین انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، گوجرانوالہ اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں بیک اپ سسٹمز کی بدولت انٹرنیٹ سروس بجلی کی بندش کے باوجود جاری رہتی ہے، جبکہ جہلم میں گزشتہ کئی برسوں سے صارفین اسی مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔
متاثرہ صارفین کے مطابق انہوں نے متعدد بار متعلقہ اداروں اور پی ٹی سی ایل حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کی شکایات کا مؤثر ازالہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ اب ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے اور اس کی مسلسل بندش طلبہ، آن لائن کاروبار کرنے والوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے۔
شہریوں نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، متعلقہ اداروں اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی مسلسل بندش کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے، ایکسچینجز اور ٹاورز پر مؤثر بیک اپ سسٹم فعال کیا جائے اور صارفین کو بلاتعطل انٹرنیٹ سہولت فراہم کرنے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔
