6
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کسی بھی شہر میں صحتِ عامہ کا سب سے اہم مرکز ہوتا ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں شہری امید اور علاج کی آس لے کر آتے ہیں۔ ایسے ادارے کی بہتری یا زبوں حالی کا انحصار براہِ راست اس کی قیادت پر ہوتا ہے۔
ڈی ایچ کیو اسپتال جہلم میں ایم ایس کے طور پر تعینات ڈاکٹر سہیل اعجاز نے اپنے مختصر مگر انتہائی مؤثر دورِ تعیناتی میں یہ ثابت کر دیا کہ اگر نیت صاف، وژن واضح اور قیادت مضبوط ہو تو سرکاری اسپتال بھی بہترین مثال بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سہیل اعجاز نے جب ڈی ایچ کیو اسپتال کا چارج سنبھالا تو سب سے پہلے نظم و ضبط کو ترجیح دی۔ او پی ڈی کا بروقت آغاز ان کی اولین ترجیحات میں شامل تھا، جس کے مثبت اثرات فوری طور پر سامنے آئے۔ مریضوں کو طویل انتظار سے نجات ملی، سسٹم میں بہتری آئی اور اسپتال کا مجموعی ماحول منظم نظر آنے لگا۔ یہ وہ چھوٹی مگر بنیادی اصلاحات تھیں جنہوں نے عوام کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
شہریوں کے مسائل کو سننا اور ان کا عملی حل نکالنا ڈاکٹر سہیل اعجاز کا نمایاں وصف تھا۔ وہ محض دفتر تک محدود افسر نہیں تھے بلکہ مریضوں، تیمارداروں اور عملے کے درمیان موجود رہ کر مسائل کو سمجھتے اور فوری فیصلے کرتے تھے۔ ان کا دروازہ ہر خاص و عام کے لیے کھلا رہتا، جس کی وجہ سے شہری خود کو نظر انداز نہیں بلکہ سنا ہوا محسوس کرتے تھے۔
اسپتال کا عملہ کسی بھی ادارے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے اور ڈاکٹر سہیل اعجاز اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے اپنے اسٹاف سے نہ صرف بہترین انداز میں کام لیا بلکہ انہیں عزت، اعتماد اور رہنمائی بھی فراہم کی۔ سختی کے بجائے فہم و فراست، اور ڈانٹ کے بجائے حوصلہ افزائی ان کا طریقہ کار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹاف میں کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوا اور مجموعی کارکردگی میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی۔
ڈاکٹر سہیل اعجاز کی قیادت میں ڈی ایچ کیو اسپتال کی حالت واقعی زبردست ہوئی۔ صفائی، نظم، او پی ڈی کا نظام، اور مریضوں کے ساتھ رویہ ہر شعبے میں بہتری محسوس کی گئی۔ عوام نے پہلی بار محسوس کیا کہ سرکاری اسپتال بھی بہتر انتظام کے ساتھ ایک مثالی ادارہ بن سکتا ہے۔
آج ڈاکٹر سہیل اعجاز کی تبدیلی کی خبر نے اسپتال کے عملے اور شہریوں کو اداس کر دیا ہے۔ ایسے افسر کم ہی ملتے ہیں جو عہدے کو اختیار نہیں بلکہ خدمت سمجھیں۔ ان کی کمی ڈی ایچ کیو اسپتال میں ضرور محسوس کی جائے گی، کیونکہ وہ صرف ایک ایم ایس نہیں بلکہ ایک اصلاح پسند منتظم اور انسان دوست شخصیت تھے۔
ڈاکٹر سہیل اعجاز، آپ ہمیں واقعی بہت یاد آئیں گے۔ امید ہے کہ جہاں بھی آپ تعینات ہوں گے، وہاں بھی اسی جذبے، دیانت اور محنت کے ساتھ عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ دعا ہے کہ آنے والی قیادت بھی آپ کے قائم کردہ معیار کو برقرار رکھ سکے۔
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
