پنجاب حکومت کا چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے مشروط ماہانہ وظیفے دینے کا فیصلہ

12

جہلم: پنجاب حکومت نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ایک بڑا اور حتمی قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کے والدین کو ماہانہ وظیفہ فراہم کیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد بچوں کو مزدوری سے نکال کر تعلیم و تربیت کی طرف لانا اور ان کا محفوظ مستقبل یقینی بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق بچوں کو مزدوری سے ہٹانے پر والدین کو مشروط مالی معاونت دی جائے گی، جبکہ معاونت کے بعد بچوں کے لیے تعلیم، تربیت اور بحالی کی مناسب سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ حکومت کی جانب سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس کمیٹیاں قائم کرنے اور ایک جامع و مربوط پلان تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم کے حوالے سے سفارشات طلب کر لی گئی ہیں، جبکہ قائم کی جانے والی کمیٹیوں کو چائلڈ لیبر کے خاتمے سے متعلق 20 سے زائد اہداف سونپے گئے ہیں۔ ان اہداف میں فیلڈ مانیٹرنگ، قانونی کارروائیاں اور بحالی کے اقدامات شامل ہوں گے۔

مزید برآں بچوں کی ڈیجیٹل میپنگ، جیو ٹیگنگ، خصوصی ہیلپ لائن کے قیام اور بحالی مراکز بنانے جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔ پنجاب حکومت کے مطابق سوشیو اکنامک سروے کی بنیاد پر مستحق والدین کا انتخاب کیا جائے گا اور ماہانہ وظیفہ فراہم کیا جائے گا، جس سے ہزاروں بچوں کو مزدوری سے نجات دلانے اور انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں مدد ملے گی۔

حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے صوبے بھر میں چائلڈ لیبر کے خاتمے اور بچوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنایا جائے گا۔

Exit mobile version