بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گرمی میں ہاتھ والے پنکھوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ، شہری پریشان

جہلم شہر اور گردونواح میں بڑھتی ہوئی گرمی اور بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث جہاں برقی اور سولر پنکھوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، وہیں ہاتھ سے تیار کیے جانے والے پنکھوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

کھجور کے پتوں سے بنے روایتی ہاتھ والے پنکھوں کی قیمت میں تقریباً 80 روپے اضافہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ سال جو پنکھا 100 روپے میں فروخت ہوتا تھا، وہ اب 180 سے 190 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح موتیوں، جھالر اور ستاروں سے سجے خوبصورت پنکھوں کی قیمت 250 روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جبکہ پلاسٹک پائپوں سے تیار کیے گئے ڈیزائنر پنکھے سب سے مہنگے فروخت ہو رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور طویل لوڈشیڈنگ کے دوران جب جنریٹر اور یو پی ایس بھی جواب دے جاتے ہیں تو ہاتھ والے پنکھے ہی واحد سہارا بن جاتے ہیں، خصوصاً رات کے وقت بجلی نہ ہونے پر یہی پنکھے کچھ حد تک سکون فراہم کرتے ہیں۔

عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ گرمی اور لوڈشیڈنگ نے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button