جہلم میں لوڈ مٹی اور ریت کی بغیر ترپال ڈالے ٹرالیاں شہریوں کے لیے وبال جان بن گئیں

جہلم شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں لوڈ مٹی اور ریت کی بغیر ترپال ڈالے ٹرالیاں شہریوں کے لیے وبال جان بن گئیں، شہری آشوبِ چشم، سانس گلے کی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے۔
تفصیلات کے مطابق چک دولت، ملوٹ ، کریشن مشینوں سے خاکہ جبکہ دریائے جہلم سے ریت، بجری لانے والی لوڈر ٹرالیوں کی وجہ سے اڑنے والی دھول مٹی سے شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ انتظامیہ کی عدم توجہی کیوجہ سے ٹریکٹر ٹرالی مالکان لوڈر ریت اور مٹی کی ٹرالیوں پر بغیر تر پال اوڑھے سڑکوں سے گزرتے دکھائی دیتے ہیں جس کی وجہ سے گرد و غبار میں اضافہ ہونے لگا، گردو غبار کی وجہ سے شہری مختلف موزی امراض کا شکار ہورہے ہیں۔
شہری عبدالرحمن، محمد عمران، محمد انصر، شاہزیب، احتشام، عبداللہ و دیگرنے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک پولیس میں درجنوں ملازمین بھرتی کئے گئے ہیں جن کی ڈیوٹیاں شاندار چوک، چوک گنبد والی مسجد اور جی ٹی ایس چوک میں لگائی گئی ہیں جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو لاوارث چھوڑدیا گیاہے۔
انہوں نے کہا کہ شام ہوتے ہی ٹریفک پولیس کا عملہ ڈیوٹیوں سے غائب ہوجاتا ہے جبکہ تعمیراتی سامان لانے والی ٹرالیاں سڑکوں پر موت کا رقص کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔ بااثر ٹرالی مالکان نے ٹرالیوں میں خاکہ ، ریت ، بجری سمیت دیگر تعمیراتی سامان بغیر ڈھانپے شہر میں منتقل کرتے دکھائی دیتے ہیں ، ٹرالیوں سے اڑنے والی دھول مٹی کیوجہ سے شہری آشوبِ چشم ،دمہ اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرناصر محمود باجوہ سے مطالبہ کیاہے کہ جادہ ،چھاؤنی چوک، سول ہسپتال ، ضلع کچہری،بلال ٹاؤن، محمدی چوک، قبرستان چوک سمیت شہر کے اہم مقامات پر ٹریفک پولیس کے ملازمین کو تعینات کیا جائے اور رات گئے تک ڈیوٹیاں کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں پیش آنے والی مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور بغیر ڈھانپے دن کے اوقات میں تعمیراتی میٹریل منتقل کرنے والے ٹرالی مالکان کو پابندسلاسل کیا جائے تاکہ شہری بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں ۔



