پنجاب یونیورسٹی پوٹھوہار کیمپس؛ گوجر خان کے لیے ایک روشن تعلیمی مستقبل

کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ جب کسی بڑے اور معتبر تعلیمی ادارے کا قیام کسی علاقے میں ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشی، سماجی اور فکری ترقی کے نئے دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔ گوجر خان کے لیے بھی یہ ایک خوش آئند لمحہ تھا جب پنجاب یونیورسٹی نے اس علاقے میں اپنے پوٹھوہار کیمپس کا قیام عمل میں لایا۔
میں بطور اسٹیٹ آفیسر اس کیمپس کے قیام کے پہلے دن سے اس ادارے کے ساتھ وابستہ ہوں اور قریب سے دیکھ رہا ہوں کہ کس طرح یہ کیمپس مختصر عرصے میں ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔ اس کیمپس کے قیام نے نہ صرف گوجر خان بلکہ پوٹھوہار کے گرد و نواح کے علاقوں کے طلبہ و طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے ان کے اپنے شہر میں کھول دیے ہیں۔ پہلے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے راولپنڈی، اسلام آباد یا لاہور جیسے بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا، جو اکثر والدین کے لیے مالی اور معاشرتی لحاظ سے مشکل ہوتا تھا۔ اب یہی سہولت ان کے اپنے شہر میں میسر آ چکی ہے۔
اس کیمپس کے ابتدائی قیام اور انتظامی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں پہلے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد مدثر غفور کا کردار بھی نہایت اہم رہا۔ انہوں نے لندن کی ایک معروف یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے اور اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر اس کیمپس کی ابتدائی دو سال تک بھرپور نگرانی اور رہنمائی کی۔ انہوں نے پہلے دن سے اس کیمپس کے معاملات کو انتہائی محنت اور ذمہ داری کے ساتھ سنبھالا اور اسے ایک منظم تعلیمی ادارے کے طور پر آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے چارج سنبھالتے ہی پوٹھوہار کیمپس کا دورہ کیا اور اس کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کیے۔ اس وقت کیمپس عارضی طور پر گورنمنٹ میونسپل ہائی سکول کی عمارت میں کام کر رہا تھا، جہاں سہولیات محدود تھیں۔ وائس چانسلر صاحب کے وژن اور رہنمائی کے مطابق فوری طور پر اس کیمپس کو ایک بڑی اور موزوں عمارت میں منتقل کیا گیا تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
اس سلسلے میں پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد انور اصغر نے بھی غیر معمولی محنت اور لگن کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے وائس چانسلر صاحب کے وژن کے مطابق دن رات کام کرتے ہوئے اس کیمپس کی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور اسے ایک فعال تعلیمی مرکز بنانے میں اہم خدمات سرانجام دیں۔
آج پوٹھوہار کیمپس نہ صرف مختلف تعلیمی پروگرامز پیش کر رہا ہے بلکہ یہاں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ طلبہ کے لیے تعلیمی سہولیات، اسکالرشپس اور دیگر انتظامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس کیمپس کو ایک مثالی تعلیمی ادارہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
اس کیمپس کے قیام سے گوجر خان کی معاشی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ طلبہ، اساتذہ اور عملے کی آمدورفت سے مقامی کاروبار کو فروغ ملا ہے۔ رہائش، ٹرانسپورٹ، کتابوں کی دکانیں اور دیگر سہولیات کی مانگ بڑھنے سے مقامی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں تعلیم کی طرف رجحان بھی بڑھا ہے، جو کسی بھی معاشرے کے روشن مستقبل کی علامت ہوتا ہے۔
مستقبل میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس کیمپس میں مزید جدید اور پیشہ ورانہ پروگرامز متعارف کروائے جائیں گے، خصوصاً ٹیکنالوجی اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے شعبوں میں۔ اس سے نہ صرف مقامی طلبہ کو جدید علوم حاصل کرنے کا موقع ملے گا بلکہ یہ ادارہ پورے خطے کے لیے ایک مضبوط تعلیمی مرکز کی حیثیت اختیار کر لے گا۔
بلاشبہ پنجاب یونیورسٹی پوٹھوہار کیمپس کا قیام گوجر خان کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ آنے والے برسوں میں یہ شہر کی سماجی اور معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر اسی جذبے اور عزم کے ساتھ اس کیمپس کی ترقی کا سفر جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب گوجر خان کا نام بھی ملک کے نمایاں تعلیمی مراکز میں شمار کیا جائے گا۔



