جہلم میں منشیات کیس میں جرم ثابت ہونے پر مجرم کو 14 سال قید اور جرمانے کی سزا

جہلم میں منشیات کیس میں جرم ثابت ہونے پر منشیات فروش کو 14 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق عدالت نے منشیات کے مقدمہ نمبر 749/23 بجرم CNSA 9(1)3D تھانہ کالا گجراں کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم خادم حسین عرف ناظم کو 14 سال قید با مشقت اور 4 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ ملزم کو سال 2023 میں منشیات فروشی کے سنگین جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔
خادم حسین عرف ناظم منشیات فروشی کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا، جسے جہلم پولیس نے کامیاب تفتیش کے بعد ٹریس کر کے گرفتار کیا۔ پولیس نے مقدمے میں ٹھوس شواہد اکٹھے کیے اور مؤثر چالان عدالت میں پیش کیا۔ کیس کی بھرپور پیروی کے نتیجے میں معزز عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو قرار واقعی سزا سنائی۔
ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ منشیات فروش معاشرے کا ناسور ہیں، ان کے خلاف جہلم پولیس کا کریک ڈاؤن پوری شدت سے جاری ہے اور منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے جرائم پیشہ عناصر کو قانون کی گرفت میں لا کر سزا دلوانا پولیس کا فرض اور عوامی خدمت ہے۔
ڈی پی او نے کیس کی مؤثر تفتیش اور قانونی کارروائی پر پولیس کی انویسٹی گیشن اور لیگل ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے تعریفی اسناد اور نقد انعام دینے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کامیاب کارروائیاں پولیس کی محنت، جذبے اور پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔



