پی ٹی آئی کو پردے سے پیچھے کا حکم

پاکستان تحریک انصاف میں اندرونی سیاست کی بدلتی ہوئی صورت حال کسی فلمی ڈرامے سے کم نہیں۔ جہاں ایک طرف پارٹی کے چیئرمین سیاسی منظرنامے سے باہر ہیں، وہیں پردے کے پیچھے سے بشریٰ بی بی کی قیادت میں جاری فیصلے اراکین اسمبلی کے لیے کڑے امتحان کا باعث بن رہے ہیں۔ حالیہ حکم کہ ہر رکن اسمبلی 24 نومبر کے جلسے میں 5000 افراد لانے کا پابند ہوگا، ورنہ پارٹی سے فارغ کر دیا جائے گا، نہ صرف حیران کن بلکہ دباؤ پیدا کرنے والا ہے۔
بشریٰ بی بی کا پردے کے پیچھے رہ کر فیصلے کرنا کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس بار ان کا براہ راست حکم دینا پارٹی کے اندرونی معاملات میں ان کے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صورتحال اراکین اسمبلی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے، کیونکہ ان پر نہ صرف پارٹی بلکہ قیادت کے ذاتی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب پارٹی قیادت نے اراکین پر غیر معمولی دباؤ ڈالا ہو، لیکن اس بار معاملہ مختلف ہے۔ بشریٰ بی بی، جو اکثر سیاسی منظر سے اوجھل رہتی ہیں، اب براہ راست ہدایات دینے کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ ان کا یہ حکم کہ ہر رکن اسمبلی جلسے کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے افراد جمع کرے، پارٹی کے اندرونی ڈھانچے اور تنظیمی حکمت عملی پر سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔
پارٹی اراکین اسمبلی کے لیے یہ حکم صرف ایک جلسے کی تیاری نہیں بلکہ سیاسی مستقبل کے لیے بقا کی جنگ بن چکا ہے۔ موجودہ سیاسی اور معاشی حالات میں، جب عوام پہلے ہی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو متحرک کرنا کسی معجزے سے کم نہیں۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت حالیہ دنوں میں متاثر ہوئی ہے۔ ایسے میں اراکین کے لیے یہ دباؤ نہ صرف ان کی ذاتی ساکھ بلکہ پارٹی کے مجموعی تشخص کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ عوامی سطح پر بھی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ پارٹی قیادت اپنی عوامی مقبولیت کی کمی کو دباؤ کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کیوں کر رہی ہے؟
یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندرونی اتحاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ اراکین اسمبلی کے لیے اپنے حلقوں میں عوام کا اعتماد برقرار رکھنا بھی مشکل بنا سکتی ہے۔ ایک طرف قیادت کی توقعات اور دوسری طرف عوام کے مسائل کے درمیان پھنسے ہوئے یہ اراکین اب کسی نئی حکمت عملی کی تلاش میں ہیں۔
بشریٰ بی بی کی جانب سے دیا گیا یہ حکم تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔ جلسے میں 5000 افراد لانے کی شرط نے جہاں پارٹی قیادت کے فیصلوں پر سوالات کھڑے کیے ہیں، وہیں یہ بھی واضح کیا ہے کہ تحریک انصاف کے اندرونی بحران سنگین رخ اختیار کر رہے ہیں۔ پارٹی کے لیے ضروری ہے کہ وہ دباؤ کی سیاست کے بجائے ایک متوازن حکمت عملی اپنائے تاکہ نہ صرف اراکین اسمبلی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہو۔
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



