وی پی این کا استعمال غیر شرعی قرار

اسلامی نظریاتی کونسل نے ”وی پی این“ کے استعمال کو غیر شرعی قرار دے دیا۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان ڈاکٹر راغب نعیمی کا کہنا ہے کہ حکومت کو شرعی لحاظ سے اختیا ر ہے کہ وہ برائی اور برائی تک پہنچانے والے تمام اقدامات کا انسداد کرے، متنازعہ، گستاخانہ اورملکی سالمیت کے خلاف استعمال ہونے والی ایپ کو فوری بند کیا جانا چاہئے۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ یا کسی سافٹ وئیر(وی پی این وغیرہ) کا استعمال جس سے غیر اخلاقی یا غیر قانونی امور تک رسائی مقصود ہو شرعا ممنوع ہے، وی پی این کا استعمال اس نیت سے کہ غیر قانونی مواد یا بلاک شدہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی جائے شرعی لحاظ سے ناجائز ہے۔
خیال رہے کہ غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کی بندش ملکی سالمیت کے لئے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے بے تحاشا غیر قانونی یو آر ایلز اور غیر اخلاقی مواد پھیلانے والی ویب سائٹس کو تصدیق کے بعد بلاک کیا جا رہا ہے۔
ان یو آر ایلز اور ویب سائٹس کی فرانزک چھان بین کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ دہشتگرد وی پی اینز کا استعمال کرکے اپنی شناخت چھپا لیتے ہیں اور ان غیر قانونی وی پی اینز کے ذریعے پروپیگنڈہ اور جعلی معلومات کی تشہیر کر ر ہے ہیں۔اس سلسلے میں متعدد اکاؤنٹس کی شناخت کر لی گئی ہے جن کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔
گمراہ کن مواد کا پھیلاؤ غیر رجسٹرڈ وی پی این کے ذریعے آسانی سے ممکن ہے،دہشت گرد اپنی شناخت چھپا کر دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ غیر مصدقہ وی پی این کے استعمال سے دہشتگرد بھرپور فائدہ اُٹھا رہے ہیں جس کا فوری تدارک ضروری ہے۔اور یہی وجہ ہےکہ پی ٹی اے نے پاکستان میں غیررجسٹرڈ وی پی این بلاک کرنا شروع کردیے ہیں۔
اب ایک طرف وی پی اینز کے ذریعے دہشتگردی کی کارروائیوں کا خدشہ ہے تو دوسری جانب غیر معیاری وی پی اینز کی وجہ سے صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔



