دبئی میں گھریلو ملازمین کے رہائشی ویزہ کی شرائط میں نرمی

دبئی نے نئے آن لائن طریقہ کار میں گھریلو ملازمین کے رہائشی ویزہ کی شرائط میں کمی کردی۔
اماراتی میڈیا کے مطابق حکام نے اعلان کیا ہے کہ تمام گھریلو کارکنوں کی ویزہ خدمات بشمول درخواست، تجدید اور رہائشی اجازت نامے کی منسوخی کے لیے اب دبئی ناؤ ایپ کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے کیوں کہ ‘دبئی ناؤ’ سمارٹ ایپ اب گھریلو ملازمین کے رہائشی اجازت ناموں کے اجراء، تجدید اور منسوخی کے واحد چینل کے طور پر کام کرتی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عمل کو آسان بنانا اور اس طرح کے لین دین میں شامل وقت کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے، نئے گھریلو کارکن پیکج کے ساتھ لین دین میں شامل سروس چینلز کی تعداد چار سے کم کرکے ایک کر دی گئی ہے اور اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے درکار اقدامات کو 12 سے کم کرکے چار کر دیا گیا ہے، سروس سینٹرز کے دورے آٹھ سے کم کر کے دو کر دیے گئے اور پروسیسنگ کا وقت 30 سے کم کرکے پانچ دن کر دیا گیا جب کہ مطلوبہ دستاویزات کی تعداد بھی 10 سے کم کر کے صرف چار کر دی گئی ہے، جس کی وجہ سے فی ٹرانزیکشن کی لاگت میں 400 درہم کی کمی واقع ہوئی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ جو گھریلو ملازم کی رہائش کے لیے درخواست دے رہے ہیں، "دبئی ناؤ” ایپ کے ذریعے ان رہائشی خدمات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں، انہیں یونیفائیڈ سروس پیکیج فارم پُر کرنا ہوگا جہاں وہ گھریلو ملازم کی تفصیلات درج کریں گے اور شناخت و پاسپورٹ کی معلومات جمع کرائی جائیں گی، ملازمت کے معاہدے پر ایپ کے اندر الیکٹرانک طور پر دستخط کیے جاتے ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ کارکن کا طبی معائنہ کرانا ہوگا، اس کے بعد نتائج ایپ کے ذریعے بھیجے جائیں گے، اس کے بعد کارکن کی شناخت اور رہائشی اجازت نامے جاری کیے جائیں گے، اس ڈومیسٹک ورکر پیکج کا رول آؤٹ وزارت برائے انسانی وسائل اور امارات (MOHRE) کے ورک بنڈل پروجیکٹ کا تیسرا مرحلہ ہے، جو تمام سروسز کو ایک پلیٹ فارم میں یکجا کرکے رہائشی ویزوں اور ملازمت کے اجازت نامے کے عمل کو آسان بناتا ہے۔
پہلا مرحلہ مارچ میں دبئی میں شروع کیا گیا تھا اور بعد میں اسے ساتوں امارات میں نافذ کیا گیا، ورک بنڈل کے دوسرے مرحلے میں تقریباً 6 لاکھ کمپنیوں اور 70 لاکھ سے زیادہ کارکنن شامل تھے۔



