پیٹرول مہنگا نہیں ہوا۔۔ غریب کا جینا مہنگا ہو گیا

ایک بار پھر پیٹرولیم بم پھٹ گیا۔ پیٹرول بھی مہنگا .. ڈیزل بھی مہنگا..اور اس بار صرف گاڑیاں نہیں رکیں بلکہ غریب کے چولہے کی آگ بھی مزید ٹھنڈی ہو گئی۔

حکمران شاید اسے چند روپے کا اضافہ سمجھتے ہوں، مگر یہ اضافہ حقیقت میں لاکھوں غریب گھروں کی سانسوں پر بوجھ بن کر گرتا ہے۔

کیونکہ اس ملک میں ڈیزل صرف ٹرکوں میں نہیں جلتا. یہ کھیتوں میں چلنے والے ٹریکٹروں میں جلتا ہے، یہ آٹا لانے والی گاڑیوں میں جلتا ہے. یہ سبزی، دودھ، دال، چینی اور دوائی شہر تک پہنچانے والے پہیوں میں جلتا ہے۔ اور جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو صرف پمپ کا ریٹ نہیں بڑھتا پورا بازار آگ پکڑ لیتا ہے۔

سبزی والا قیمت بڑھا دیتا ہے۔
آٹے والا ہاتھ کھڑے کر دیتا ہے۔
ٹرانسپورٹ والا کرایہ بڑھا دیتا ہے۔
رکشہ ڈرائیور مجبور ہو جاتا ہے۔
کسان کی کمر مزید جھک جاتی ہے۔

ایک مزدور، جو صبح سویرے موٹر سائیکل پر مزدوری ڈھونڈنے نکلتا ہے، اب پیٹرول ڈلوانے سے پہلے جیب نہیں، اپنی قسمت دیکھتا ہے۔ وہ کسان، جو پہلے ہی کھاد، بجلی اور پانی کے اخراجات سے ٹوٹ چکا ہے، اب ڈیزل مہنگا ہونے کے بعد فصل اگانے سے بھی ڈرنے لگا ہے۔ یہ صرف قیمتوں میں اضافہ نہیں. یہ غریب کے منہ سے نوالہ چھیننے کا اعلان ہے۔

حکمران کہتے ہیں عالمی منڈی مہنگی ہو گئی۔ مگر کوئی ان سے پوچھے، کیا اس ملک کے عوام کی زندگی کبھی سستی ہوئی؟

جب عالمی منڈی میں تیل سستا ہوتا ہے تو ریلیف کہاں چلا جاتا ہے؟
کیوں ہر بحران کا بوجھ صرف عوام کے کندھوں پر رکھا جاتا ہے؟

اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو شاید احساس نہیں کہ ایک سفید پوش آدمی اب روز مرتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، بجلی کا بل اور راشن کے درمیان پِس چکا ہے۔ اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ لوگ بیماری سے پہلے علاج کے خرچے سے ڈرنے لگے ہیں۔

کیا کبھی کسی وزیر نے اپنی سرکاری گاڑی کم کی؟
کیا کسی افسر نے مفت پیٹرول کی سہولت واپس کی؟
کیا کسی حکمران نے اپنے پروٹوکول کے اخراجات کم کیے؟

نہیں۔

قربانی ہمیشہ غریب نے دی ہے۔ اور اب تو ایسا لگتا ہے جیسے اس ملک میں زندہ رہنا بھی ایک مہنگا شوق بن چکا ہے۔ حکومت اگر واقعی عوامی حکومت ہے تو اسے صرف اعداد و شمار نہیں، عوام کی چیخیں بھی سننا ہوں گی۔

کیونکہ جب پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوتے ہیں تو صرف ٹینک نہیں بھرتے. غریب کی آنکھیں بھی بھر آتی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Exit mobile version