مہنگائی میں اضافے کی شرح 31 فیصد سے تجاوز کرگئی

پاکستان میں مہنگائی کی سالانہ شرح ستمبر میں 31 اعشاریہ 4 فیصد ہوگئی جو اگست میں 27 اعشاریہ 4 فیصد تھی۔

ادارہ شماریات کے مطابق بنیادی افراط زر 0 اعشاریہ 2 فیصد پوائنٹس بڑھ گیا جو اگست میں 18 اعشاریہ 4 فیصد پر تھا، جب کہ ہول سیل پرائس انڈیکس جولائی-ستمبر میں 0 اعشاریہ 92 فیصد اضافے کے بعد 24 اعشاریہ 61 فیصد پر جا پہنچا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر میں اشیائے خور ونوش کی مہنگائی کی شرح میں بدستور اضافہ ہوا اور 33 اعشاریہ 1 فیصد پر پہنچ گئی ہے اور سالانہ بنیاد پر 38 اعشاریہ 4 فیصد ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں سالانہ مہنگائی کی شرح 29 اعشاریہ 7 فیصد تک بڑھی ہے اور دیہی علاقوں میں 33 اعشاریہ 9 فیصد ہوگئی ہے۔

رواں مالی سال 24-2023 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں اوسط افراط زر 29 اعشاریہ 04 فیصد رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 25 اعشاریہ 11 فیصد تھی۔ ماہ بہ ماہ کی بنیاد پر یہ ستمبر 2023 میں بڑھ کر 2 فیصد ہوا جب کہ اس سے پچھلے ماہ میں 1 اعشاریہ 7 فیصد اضافہ اور ستمبر 2022 میں 1 اعشاریہ 2 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی۔

سی پی آئی افراط زر کی شرح ستمبر 2023 میں سال بہ سال کی بنیاد پر بڑھ کر 29 اعشاریہ 7 فیصد ہوگئی۔

دیہی علاقوں میں سی پی آئی افراط زر کی شرح سال بہ سال کی بنیاد پر 33 اعشاریہ 9 فیصد رہی جبکہ اس سے پچھلے ماہ یہ 30 اعشاریہ 9 فیصد پر تھی۔

سال بہ سال کے دوران حساس پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) افراط زر ستمبر 2023 میں بڑھ کر 32 فیصد، ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) سالانہ بنیاد پر افراط زر کی شرح ستمبر 2023 میں اضافے سے 26 اعشاریہ 4 فیصد اور نان فوڈ نان انرجی اربن کی پیمائش 0 اشاریہ 2 فیصد بڑھ کر 18 اعشاریہ 6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

سالانہ بنیاد پرکیا کچھ مہنگا ہوا

Exit mobile version