کسی معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، چوڑی سڑکیں یا بڑے بڑے دعوے نہیں ہوتے، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہاں کمزور کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے اور اختلافِ رائے رکھنے والے کے حق کا کس حد تک احترام کیا جاتا ہے۔ اگر ایک صحافی کے گھر کی دہلیز بھی خوف سے محفوظ نہ رہے تو پھر سوال صرف ایک شخص کا نہیں رہتا، پورا معاشرہ کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے صحافی اور پی ڈی خان پریس کلب کے صدر باصر کھوکھو کے گھر کھیوڑہ میں رات گئے پولیس کارروائی اور ان کے اہلِ خانہ، بالخصوص ضعیف العمر والدہ اور بیٹیوں کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کی خبر نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ سوالات کسی ایک ادارے، کسی ایک شخص یا کسی ایک رات تک محدود نہیں، بلکہ اس نظامِ انصاف کے بارے میں ہیں جس کے دعوے ہم دن رات کرتے ہیں۔
باصر کھوکھو سے راقم الحروف کی شناسائی تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ اس طویل عرصے میں انہیں قریب سے دیکھا، ان کی صحافتی جدوجہد کو پرکھا اور مشکل حالات میں بھی قلم کو مصلحت کا اسیر نہ ہونے دیا۔ اسی دلیری اور بے باکی کے باعث انہیں ہم نے ”پی ڈی خان کا شکرا“ کا خطاب دیا تھا۔ شکرا اس لیے کہ وہ حالات کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، خبر کو خبر سمجھتے ہیں اور دباؤ کو صحافت کا متبادل نہیں بناتے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک صحافی کا قلم اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی سزا اس کے گھر کی دہلیز پر دی جائے؟
اگر کسی صحافی کے خلاف کوئی مقدمہ ہے، کوئی قانونی الزام ہے یا کسی قانون کی خلاف ورزی کا شبہ ہے تو ملک میں عدالتیں موجود ہیں، قانون موجود ہے، تفتیش کے ضابطے موجود ہیں۔ قانون کا راستہ کھلا ہے، مگر قانون کے نام پر خوف کی فضا پیدا کرنا کسی مہذب معاشرے کا طریقہ نہیں۔
اور اگر رات کے اندھیرے میں پولیس کسی صحافی کے گھر پہنچتی ہے تو وہاں موجود ایک بوڑھی ماں کے لیے وردی صرف وردی نہیں ہوتی، وہ ریاست کی علامت ہوتی ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتی کہ معاملہ کیا ہے، کون قصوروار ہے اور کون بے قصور؛ وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ اس کے گھر میں اچانک خوف کیوں اتر آیا ہے۔
اس ضعیف ماں کا کیا قصور ہے؟
اس کی بیٹیوں کا کیا قصور ہے؟
اور اگر کسی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی مطلوب تھی تو اس کے اہلِ خانہ کو خوف زدہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہ وہ سوالات ہیں جو کسی سیاسی وابستگی، صحافتی گروہ بندی یا ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صحافت ریاست کی دشمن نہیں ہوتی۔ ایک صحافی سوال اٹھاتا ہے، خبر دیتا ہے، خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور کبھی کبھی وہ بات کہہ دیتا ہے جو طاقت کے ایوانوں کو ناگوار گزرتی ہے۔ اگر ہر ناگوار سوال کو جرم سمجھ لیا جائے تو پھر اخبار صرف اشتہارات کا مجموعہ رہ جائیں گے اور قلم صرف وہی لکھے گا جس کی اجازت ہوگی۔
یہاں معاملہ کسی صحافی کو قانون سے بالاتر قرار دینے کا بھی نہیں۔ صحافی ہو یا عام شہری، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ لیکن قانون کی بالادستی کا مطلب یہی ہے کہ قانون بھی قانون کے مطابق نافذ ہو۔ گرفتاری ہو تو قانون کے تحت، تفتیش ہو تو قانون کے تحت، پوچھ گچھ ہو تو قانون کے تحت اور کارروائی ہو تو قانون کے تحت۔
ریاست کی طاقت کا اصل حسن اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ طاقتور کے سامنے بھی قانون کو جھکنے نہ دے اور کمزور کے دروازے پر بھی انصاف کی حرمت برقرار رکھے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کو محض ایک صحافی کا ذاتی معاملہ سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ مبینہ کارروائی کے تمام پہلوؤں کی غیر جانب دارانہ طور پر وضاحت کریں۔ اگر پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کی ہے تو حقائق سامنے آنے چاہئیں، اور اگر کسی اہلکار نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔
اگر باصر کھوکھو کی جانب سے ن لیگ کی مقامی سیاسی قیادت پر لگایا گیا الزام درست ہے تو یہ صرف ایک صحافی پر دباؤ کا معاملہ نہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ، پولیس کے استعمال اور آزادیِ صحافت کے بارے میں ایک انتہائی سنگین سوال ہے۔ اور اگر یہ الزام درست نہیں تو پھر متعلقہ قیادت اور پولیس کو حقائق سامنے لا کر اس تاثر کو ختم کرنا چاہیے۔ خاموشی شکوک کو جنم دیتی ہے، وضاحت انہیں ختم کرتی ہے۔
کیونکہ وردی کو عزت عوام دیتے ہیں اور قلم کو اعتبار عوام دیتے ہیں۔ دونوں کا مقصد عوام کی حفاظت اور خدمت ہے، ایک دوسرے کو خوف زدہ کرنا نہیں۔
باصر کھوکھو آج صرف ایک نام نہیں، یہ سوال بن کر سامنے کھڑے ہیں کہ کیا ہمارے معاشرے میں صحافی اختلافِ رائے کے باوجود محفوظ ہے؟ کیا ایک بوڑھی ماں کے گھر کی دہلیز ریاستی اختیار کے خوف سے محفوظ ہے؟ کیا پولیس کا اختیار قانون سے بڑا ہے یا قانون پولیس کے اختیار کی حد مقرر کرتا ہے؟
ان سوالات کا جواب صرف باصر کھوکھو کو نہیں چاہیے۔
یہ جواب ہر اس ماں کو چاہیے جو رات کے سناٹے میں دروازے پر دستک سن کر خوف زدہ ہو جاتی ہے۔ یہ جواب ہر اس صحافی کو چاہیے جو اپنے قلم سے معاشرے کی خامیاں دکھاتا ہے۔ اور یہ جواب ہر اس شہری کو چاہیے جو ریاست سے صرف ایک چیز مانگتا ہے: انصاف۔
اگر قانون سب کے لیے ہے تو پھر اس کا خوف بھی سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، اور اس کا تحفظ بھی۔ ریاست مضبوط تب ہوتی ہے جب اس کے شہری اس سے ڈریں نہیں، بلکہ اس پر اعتماد کریں۔ اور جس دن شہری ریاست پر اعتماد کھو بیٹھیں، اس دن سب سے بڑی شکست کسی فرد کی نہیں، نظام کی ہوتی ہے۔
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
