پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، کارکنان کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاریاں جاری، دریائے جہلم کے تینوں پل بند کرنے کی تیاریاں مکمل

جہلم: پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ اور احتجاج سے قبل جہلم میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
مختلف ذرائع کے مطابق جہلم میں تین اہم پلوں کو بند کرنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور اہم داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں پہنچا دی گئی ہیں۔
پورٹ کے مطابق جہلم میں اب تک 80 پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ 60 کارکنوں کو تھری ایم پی او کے تحت ڈسٹرکٹ جیل میں بند کیے جانے کی اطلاع ہے۔
رپورٹ کے مطابق راولپنڈی ڈویژن، جس میں جہلم بھی شامل ہے، میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف گھر گھر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ڈویژن بھر میں 150 سے زائد افراد کو 3 ایم پی او کے تحت حراست میں لیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دریائے جہلم کے پلوں پر بڑی تعداد میں کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں، جبکہ کنٹینرز کو مزید مضبوط کرنے کے لیے مٹی اور ریت سے بھری بوریاں بھی موقع پر لائی جا رہی ہیں۔ دریائے جہلم کے پلوں کے اردگرد سڑک کے کناروں پر بھی کنٹینرز کھڑے کیے گئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق جہلم میں دریائے جہلم پل، منگلا پل، سوہاوہ سمیت تقریباً دس اہم مقامات کے اطراف آمدورفت محدود یا بند کرنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل مقامی اطلاعات میں بھی جہلم کے تقریباً دس مقامات پر داخلی و خارجی راستوں کو محدود کرنے اور تینوں پلوں کو بند کرنے کی تیاریوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دریائے جہلم اور دریائے چناب کے پلوں کے قریب بڑی تعداد میں بھاری گاڑیاں کھڑی کی گئی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر سڑکوں کے سامنے ریت سے بھری بوریاں بھی رکھی جا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے جی ٹی روڈ پر بعض مقامات پر مال بردار گاڑیوں کو روکا جا رہا ہے، تاہم بعض مقامات پر نجی گاڑیوں، رکشوں اور منی ٹرکوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
کنٹینرز کے عملے کا کہنا ہے کہ انہیں کئی دنوں سے مختلف مقامات پر روکا گیا ہے، جس کے باعث انہیں اپنے روزگار اور سامان کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں موجود کروڑوں روپے مالیت کے سامان کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ انہیں کھلے مقامات پر قیام کرنے اور کھانے پینے میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے۔
ادھر پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر پنجاب حکومت نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے۔ پنجاب میں 23 ستمبر سے 5 اکتوبر 2026 تک دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت عوامی مقامات، سڑکوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات سمیت بعض دیگر سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔



