جہلم: اندرونِ شہر اور گردونواح میں ٹریفک کے رش کے باعث ایمبولینسز کو بروقت راستہ نہ ملنے سے ہنگامی حالت میں موجود مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ٹریفک میں پھنس جانے والی ایمبولینسز کے باعث مریضوں کو ہسپتال پہنچانے میں قیمتی وقت ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ بعض ہنگامی حالات میں چند منٹوں کی تاخیر بھی مریض کی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر جب بھی کسی ایمبولینس کا سائرن سنائی دے تو تمام ڈرائیورز کو فوری طور پر محتاط ہو کر اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل مناسب انداز میں ایک طرف کر کے ایمبولینس کو راستہ دینا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمبولینس کے راستے میں رکاوٹ بننا نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ کسی انسان کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
شہری حلقوں نے ریسکیو انتظامیہ، خصوصاً ریسکیو انچارج انجینئر رانا سعید احمد سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع جہلم کے سرکاری و نجی سکولوں میں خصوصی روڈ سیفٹی اور ایمرجنسی آگاہی مہم شروع کی جائے۔ سکولوں میں طلبہ کو یہ بنیادی پیغام دیا جائے کہ ایمبولینس کا سائرن کسی انسان کی زندگی بچانے کے لیے فوری مدد کی پکار ہوتا ہے، اس لیے سائرن سنتے ہی اسے راستہ دینا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
ماہرین کے مطابق بچوں میں ٹریفک قوانین اور ہنگامی صورتحال سے متعلق شعور اجاگر کرکے اس پیغام کو گھروں اور معاشرے تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔ اگر سکولوں میں طلبہ کو یہ تربیت دی جائے کہ ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور دیگر ایمرجنسی گاڑیوں کو سڑک پر کس طرح محفوظ اور فوری راستہ فراہم کرنا ہے تو مستقبل میں شہریوں کے ٹریفک رویوں کو مزید ذمہ دار بنایا جا سکتا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آگاہی مہم کو صرف سکولوں تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف عوامی مقامات پر بھی جاری کیا جائے تاکہ ایمبولینس سمیت تمام ہنگامی گاڑیوں کو بروقت راستہ دینے کے حوالے سے اجتماعی شعور پیدا کیا جا سکے۔
