جہلم سمیت پنجاب بھر میں شدید گرمی اور حبس نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے جبکہ سورج کی تپش میں اضافے کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہونے لگے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع کی طرح جہلم میں بھی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ شدید دھوپ اور گرم ہواؤں کے باعث دوپہر کے اوقات میں سڑکیں سنسان دکھائی دینے لگیں جبکہ بازاروں، چوک چوراہوں اور جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا دباؤ بھی معمول سے کم ریکارڈ کیا گیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید حبس، لو اور بجلی کی بندش نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث بزرگ، بچے اور محنت کش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
ماہرینِ صحت نے شہریوں کو سخت گرمی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ پانی، لیموں پانی اور دیگر مشروبات استعمال کیے جائیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک دھوپ کی شدت خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے، اس لیے شہری سر ڈھانپ کر رکھیں، ہلکے رنگ کے کپڑے استعمال کریں اور بچوں، بزرگوں اور دل کے مریضوں کا خصوصی خیال رکھیں۔
شہری حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شدید گرمی کے پیش نظر ہسپتالوں میں ہنگامی انتظامات یقینی بنائے جائیں اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی ممکن بنائی جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
