رمضان کی آمد اور انتظامی حقیقت

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ہر سال ایک مانوس منظر سامنے آتا ہے۔ حکومتی اعلانات، ریلیف پیکیجز، پرائس کنٹرول مہمات، خصوصی بازاروں کے قیام اور اشیائے خورونوش کی نگرانی کے دعوے۔ کاغذوں میں سب کچھ منظم اور مربوط دکھائی دیتا ہے، مگر زمینی حقیقت اس سے مختلف سوالات کو جنم دیتی ہے۔

تحصیل کی سطح پر، جہاں آبادی تین لاکھ سے کم نہیں ہوتی، پورے انتظامی ڈھانچے کا بوجھ چند افراد کے کندھوں پر ہوتا ہے۔ ایک اسسٹنٹ کمشنر، ایک تحصیلدار، ایک چیف آفیسر، ایک ایس ایچ او—یہی افسران روزمرہ انتظامی امور سے لے کر رمضان کے خصوصی اقدامات تک سب کچھ سنبھالتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کوشش نہیں کرتے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ انتظامی ڈھانچہ اپنی موجودہ صورت میں مؤثر ہو سکتا ہے؟

اگر ایک ضلع میں فوڈ اتھارٹی کا عملہ محدود ہو اور اسے ایک تحصیل کے تمام دودھ، دہی اور دیگر اشیائے خوردونوش کی روزانہ نگرانی کرنی ہو تو کیا یہ ممکن ہے کہ ہر دکان، ہر سپلائر اور ہر گودام تک رسائی ہو؟ اسی طرح تین یا چار پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کیا پوری تحصیل کے ذخیرہ اندوزوں، ناجائز منافع خوروں اور ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف مستقل اور جامع کارروائی کر سکتے ہیں؟ سادہ جواب نفی میں ہے۔

مسئلہ صرف نفری کی کمی کا نہیں، نظام کی ساخت کا ہے۔ رمضان آتے ہی خصوصی اقدامات کا شور اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ پورا سال ایک مربوط، مسلسل اور خودکار نظام موجود نہیں رہا۔ اگر قیمتوں کی نگرانی، کوالٹی کنٹرول، سپلائی چین کی شفافیت اور مارکیٹ انسپیکشن کا مستقل ڈھانچہ فعال ہو تو کسی ایک مہینے میں ہنگامی اقدامات کی ضرورت کم پڑے۔

اصل ضرورت چند بنیادی اصلاحات کی ہے:

• ڈیٹا پر مبنی نگرانی: مارکیٹوں، ہول سیل پوائنٹس اور ریٹ لسٹس کا ڈیجیٹل ریکارڈ، جس سے غیر معمولی قیمتوں میں اضافے کی فوری نشاندہی ہو سکے۔
• مقامی سطح پر ذمہ داری کی تقسیم: یونین کونسل یا وارڈ سطح پر کمیٹیاں، جو ابتدائی نگرانی کریں اور رپورٹ کریں۔
• شفاف شکایتی نظام: ایسا پلیٹ فارم جہاں شہری فوری شکایت درج کر سکیں اور اس کی ٹریکنگ ممکن ہو۔
• سال بھر تسلسل: رمضان کے بجائے پورے سال ایک ہی معیار پر نگرانی۔

جب نظام ہنگامی بنیادوں پر حرکت میں آتا ہے تو وقتی نتائج ملتے ہیں، مگر ساختی کمزوریاں برقرار رہتی ہیں۔ چند دنوں کی کارروائیاں وقتی خوف تو پیدا کر سکتی ہیں، مستقل نظم و ضبط نہیں۔

سوال ناراضی کا نہیں، جوابدہی کا ہے۔ اگر ہر سال وہی مسائل، وہی قیمتوں کا طوفان، وہی ملاوٹ اور وہی انتظامی دوڑ دھوپ دہرائی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ افراد میں نہیں، ڈھانچے میں ہے۔ تعریف اور تنقید دونوں اپنی جگہ، مگر اصل کامیابی اس دن ہوگی جب رمضان کے آغاز پر خصوصی اقدامات کی ضرورت محسوس ہی نہ ہو، کیونکہ نظام پہلے سے فعال، منظم اور متوازن ہو۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button