یوسی گولپور کے مکین پینے کے صاف پانی سے محروم، مکین جوہڑوں کا پانی استعمال کرنے پر مجبور

پنڈدادنخان: ضلع جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کی یونین کونسل گولپور کے مکین آج کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں بھی پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی نعمت سے محروم ہیں۔ تقریباً پندرہ ہزار نفوس پر مشتمل اس یونین کونسل میں صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ شہریوں کے ساتھ ساتھ مویشی بھی جوہڑوں کا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔

یونین کونسل گولپور میں تقریباً چالیس سال قبل چار دیہاتوں کے لیے واٹر سپلائی لائن بچھائی گئی تھی، جو وقت گزرنے کے ساتھ زنگ آلود ہو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ بوسیدہ پائپ لائنوں کے باعث پانی کی فراہمی نہایت محدود ہو گئی ہے اور بعض اوقات مہینے میں صرف دو سے تین مرتبہ ہی گھروں تک پانی پہنچ پاتا ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پانی کی قلت کے باعث مقامی مکین جوہڑوں سے پانی بھر کر گھریلو استعمال کے لیے لانے پر مجبور ہیں، جو نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ مختلف وبائی امراض کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی خرابی، ٹرانسفارمر جلنے یا کسی فنی مسئلے کی صورت میں پانی کی سپلائی تقریباً مکمل طور پر معطل ہو جاتی ہے، جس سے حالات مزید ابتر ہو جاتے ہیں۔

اہلِ علاقہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ یونین کونسل گولپور کے لیے نئی واٹر سپلائی اسکیم کی منظوری دی جائے اور فوری طور پر ٹیوب ویل نصب کیا جائے، تاکہ مکینوں کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ صاف پانی کی دستیابی نہ صرف ان کی روزمرہ زندگی کو آسان بنائے گی بلکہ بچوں، خواتین اور بزرگوں کو پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھے گی۔ اہلِ علاقہ نے اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ اس دیرینہ مسئلے پر فوری توجہ دی جائے تاکہ بنیادی سہولت سے محروم یہ بستی سکھ کا سانس لے سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button