جہلم میں مہنگائی کا جن بے قابو، انتظامیہ نے بھی منافع خوروں کے آگے گھٹنے ٹیک دیے

جہلم: انتظامیہ نے منافع خوروں کے آگے گھٹنے ٹیک دیے، مہنگائی کے بے قابو جن نے عوام کی چیخیں نکلوانی شروع کررکھی ہیں۔ شہر سمیت ضلع بھر میں منافع خور مافیا کی لوٹ مار عروج پر پہنچ گئی۔ شہر اور مضافاتی علاقوں میں مصنوعی مہنگائی کا قائم راج تین درجن سے زائد پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ختم نہ کرسکے۔

تفصیلات کے مطابق انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور عدم توجہی کے باعث جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں مجسٹریسی نظام بری طرح نا کام ہو چکا ہے جس کی وجہ سے منافع خوروں کا راج قائم ہونے پر سرکاری ریٹ لسٹ پر شہریوں کو اشیاء ضروریہ کی فروخت کی بجائے من مانی قیمتیں وصول کر کے بدستور دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا عمل دیدہ دلیری کے ساتھ جاری ہے۔

انتظامیہ گرانفروش وں پر قابو پانے میں بری طرح سے ناکام دیکھائی دیتی ہے۔ منافع خوروں نے مارکیٹ کمیٹی کے جاری نرخنامےکو ہوا میں اڑتے ہوئے گاہکوں سے من مرضی کے نرخ وصول کرنے شروع کررکھے ہیں۔

قصابوں کی طرف سے چھوٹا گوشت حکومتی نرخ نامے 1600 روپے فی کلوگرام کی بجائے2000 سے 2200 روپے، بڑا گوشت 800 روپے کلو کی بجائے 1000 سے 1200 روپے اور مرغی کاگوشت 392 روپے کی بجائے 430 روپے فی کلوگرام فروخت کیا جانے لگا۔

پھلوں میں سیب گولڈن 155 روپے کلو گرام کی بجائے 250 روپے، انار قندھاری 390 دوپے کی بجائے 450 روپے، انگورسمندر خانی 390 روپے کی بجائے 500 روپے کلوگرام، فروٹر اول 100 روپے کی بجائے 200 روپے فی درجن، مسمی اول 105روپے کی بجائے 200 روپے اور کیلا 118 کی بجائے 150 دوپے فی درجن فروخت کیا جا رہا ہے۔

سبزیاں میں پیاز اول 130 روپے کی بجائے 160 روپے، ٹماٹر اول 140کی بجائے 200 روپے، لہسن دیسی 600 روپے کی بجائے 700 روپے، بند گوبھی 52 روپے کی بجائے 110 روپے، مٹراول 250 روپے کی بجائے 280 روپے، سبز مرچ دیسی 85 روپے کی بجائے 130 روپے سمیت دیگر روزہ مرہ کی اشیاء خوردونوش ، مصالحہ جات بھی شہریوں کو من مانے نرخوں پر فروخت کر کے دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔

سول سوسائٹی اور شہری حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر راولپنڈی ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے منافع خوروں کے ساتھ ساتھ منافع خوری پر کنٹرول نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button