ضلع جہلم میں جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت، مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

جہلم: ملک بھر کی طرح ضلع جہلم میں بھی جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

انسولین سمیت 79 اہم ادویات بازاروں میں دستیاب نہیں، جس کے باعث ذیابیطس، کینسر، الزائمر، پارکنسن، امراض قلب اور نفسیاتی امراض میں مبتلا مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے مطابق اس وقت کم از کم 80 ایسی بنیادی اور جان بچانے والی ادویات مارکیٹ سے غائب ہیں، جن میں سے 25 کا تو کوئی متبادل بھی دستیاب نہیں ہے۔ ان میں وہ دوائیں بھی شامل ہیں جو دائمی اور جان لیوا بیماریوں کے علاج کے لیے ناگزیر ہیں۔

پی ایم اے نے اس سنگین صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بحران لاکھوں مریضوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو قیمتی جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے۔

میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے حکومت سے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس تباہ کن صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادویات کی قلت کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسا بحران ہے جس نے مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button