جہلم شہر کے وسط میں تجاوزات کی بھرمار، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

جہلم شہر کے وسط میں واقع چوک اہلحدیث کے چاروں اطراف تجاوزات کی بھرمار نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے آغاز کے ساتھ ہی بازاروں میں خریداروں کے رش میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جس کے باعث آمدورفت کا نظام بری طرح متاثر ہو کر رہ گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ چوک اہلحدیث کے گردونواح میں متعدد دکانداروں نے اپنی دکانوں کا سامان فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر سجا رکھا ہے، جبکہ ریڑھی بان بھی بڑے دکانداروں سے کمیشن لے کر سڑکوں اور گزرگاہوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں، جس سے راستے مزید تنگ ہو جاتے ہیں۔ رش کے اوقات میں پیدل چلنا بھی دشوار ہو جاتا ہے اور خصوصاً خواتین، بزرگوں اور بچوں کو شدید مشکلات اور ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں کے مطابق پیرا فورس اور انسدادِ تجاوزات عملہ صورتحال سے باخبر ہونے کے باوجود موثر کارروائی کرنے سے گریزاں دکھائی دیتا ہے، جس کے باعث مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور بلاامتیاز آپریشن نہ کیا گیا تو رمضان المبارک کے آخری ایام میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
علاقہ مکینوں اور خریداروں نے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے تجاوزات کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائیوں کا حکم دیا جائے تاکہ بازاروں میں آمدورفت بحال ہو سکے اور شہریوں کو سہولت میسر آئے۔ شہریوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ شہر کے مرکزی تجارتی مراکز میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔



