دینہ: جہلم کی تحصیل دینہ کی یونین کونسل مغل آباد کے نواحی گاؤں بوہڑیاں نئی آبادی گراؤنڈ ست تعلق رکھنے والی پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ بیرسٹر شبانہ محمود کو برطانیہ کی وزیر داخلہ مقرر کر دیا گیا۔
یہ تقرری نہ صرف برطانیہ بلکہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے لیے بھی ایک بڑے اعزاز سے کم نہیں۔ برطانوی وزیر داخلہ انجیلا رینر کے استعفیٰ کے بعد برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کیا اور شبانہ محمود کو وزیر داخلہ کا قلمدان سونپا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق انجیلا رینر نے نئے گھر پر جائیداد ٹیکس کم ادا کرنے کی غلطی پر ندامت ظاہر کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے نئی تقرریاں کیں۔
انہوں نے ڈیوڈ لامی کو ڈپٹی وزیراعظم مقرر کیا جبکہ وزیر خارجہ کا قلمدان یویٹ کوپر کے حوالے کر دیا گیا جو اس سے قبل وزیر داخلہ تھیں۔ اس رد و بدل میں شبانہ محمود کو وزیر داخلہ تعینات کیا گیا جو پہلے ہی برطانیہ میں وزیر انصاف کے طور پر فرائض انجام دے رہی تھیں۔
بیرسٹر شبانہ محمود کا شمار برطانیہ کی سینئر مسلم سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ وہ 2010 سے برمنگھم لیڈی ووڈ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہو رہی ہیں اور اپوزیشن کے دور میں متعدد شیڈو وزارتیں بھی سنبھال چکی ہیں۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور عملی سیاست میں قدم رکھا۔ ان کی قابلیت اور محنت کے اعتراف کے طور پر انہیں اب برطانیہ کے سب سے اہم اور حساس قلمدان، وزارتِ داخلہ، کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ شبانہ محمود کی تقرری کو لیبر پارٹی کی ابھرتی ہوئی قیادت کا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس شاندار کامیابی پر ضلع جہلم، دینہ، میرپور آزاد کشمیر اور بالخصوص یونین کونسل مغل آباد کے عوام نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بیرسٹر شبانہ محمود، ان کے والد چوہدری محمود اور ان کے چچا چوہدری یعقوب کو مبارکباد پیش کی۔ عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ شبانہ محمود کی یہ کامیابی پاکستان کی ہر بیٹی کے لیے ایک مثال ہے اور یہ اعزاز پاکستانی عوام کے سر فخر سے بلند کرنے کے مترادف ہے۔
