میں بطور ایک سیاسی اور سماجی کارکن پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے شروع کیے گئے رمضان راشن کارڈ کا بہت بڑا ناقد ہوں چونکہ سیاسی اور سماجی ورکر کی حیثیت سے میرا روزانہ بہت سے عام لوگوں سے رابطہ رہتا ہے، عام آدمی کو جن دو مسائل کا سب سے زیادہ سامنا ہے وہ صحت اور تعلیم کے مسائل ہیں۔
جب کبھی بھی کسی عام آدمی کے ساتھ تعلیم اور صحت کے مسائل کے حوالے سے میری بات ہوئی تو لوگ بڑے پیمانے پر تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کی طرف سے ان کے دور میں شروع کیے گئے ہیلتھ کارڈ کی تعریف کرتے نظر آئے۔
اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومت پنجاب اور کے پی کے کی صوبائی حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے ہیلتھ کارڈ کی وجہ سے ان دو صوبوں کی عوام نے صحت کے مسائل کے حوالے سے سکھ کا سانس لے رکھا تھا اور جب پنجاب اور کے پی کے کی صوبائی حکومتیں ختم ہوئیں اور مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت بذریعہ تحریک عدم اعتماد ختم ہوئی تو تحریک انصاف کی مرکزی پنجاب اور کے پی کے میں صوبائی حکومت کے اختتام کے ساتھ ہی نئی بننے والی نگران اور پی ڈی ایم کی مرکزی حکومت نے صحت کارڈ کے اجراء کو روک دیا۔
اس کی وجہ سے ان دو صوبوں میں رہنے والے لوگوں کو صحت کے حوالے سے صحت کارڈ کی وجہ سے ملنے والی بے مثال سہولت ختم ہو گئی، اس سہولت کے ختم کرنے کی وجہ سے ان دو صوبوں کے عوام میں مسلم لیگ نون اور اس کی اتحادی مرکزی حکومت پنجاب اور کے پی کے میں بننے والی نگران حکومتوں کے بارے میں عوامی سطح پر شدید رد عمل پایا جاتا تھا۔
آٹھ فروری 2024 کو ہونے والے جنرل الیکشن میں پنجاب اور کے پی کے سے تحریک انصاف کو جو بھرپور عوامی پذیرائی ملی، اس کے پیچھے جہاں اور بہت سی وجوہات تھیں ان میں سے ایک اہم وجہ تحریک انصاف کی سابقہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے جاری کردہ صحت کارڈ کی سہولت تھی۔
آٹھ فروری 2024 کے جنرل الیکشن کے نتیجے میں پنجاب میں بننے والی نون لیگ کی صوبائی حکومت کی قیادت مریم نواز صاحبہ کو سونپی گئی۔ مریم نواز کی صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی جو سب سے پہلی سکیم دی وہ رمضان المبارک میں نگہبان رمضان راشن پیکج کے تحت دیا جانے والا حقدار گھرانوں کو راشن ہے۔
پہلے تو یہ سکیم شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن جب یہ شروع کی گئی تو صوبائی حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ ایسے اقدامات اٹھاتی کہ راشن کم از کم حقداروں تک پہنچ پاتا۔ صوبائی حکومت کی طرف سے عجلت میں کیے گئے فیصلوں کی وجہ سے نون لیگ کی صوبائی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی یہ سکیم عوام میں پذیرائی حاصل نہ کر سکی اور اس سکیم پر 23 ارب کے قریب ایک بہت بڑی رقم خرچ کرنے کے باوجود بھی صوبائی حکومت عوامی پزیرائی کے بجائے رسوائی حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہری۔
نون لیگ کی صوبائی حکومت کی سربراہ مریم نواز صاحبہ سے میری گزارش ہے کہ وہ پنجاب کے اندر فوری طور پر صحت کارڈ کا دوبارہ اجرا کر دیں اور یہ سہولت تمام آبادی کی بجائے ان گھرانوں تک محدود کر دیں جن کی ماہانہ آمدنی 60 ہزارسے کم ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے صوبائی حکومت کو سابقہ صوبائی حکومت کی طرف سے جاری کردہ صحت کارڈ پر خرچ ہونے والی رقم سے کم از کم 400 ارب روپیہ کی بچت ہوگی۔
اس 400 ارب روپیہ سے صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ پنجاب کے باسیوں کے لیے صحت کارڈ کے ساتھ ایجوکیشن کارڈ کا اجرا کر دیں۔ ایجوکیشن کارڈ کے اجراء کے لئے پنجاب بھر میں تقریبا 20 ہزار کے قریب یونین کونسلز ہیں اور ہر یونین کونسل میں تقریباً چھ وارڈز ہیں۔ اگر بیس ہزار کو چھ سے ضرب دی جائے تو پنجاب بھر میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب وارڈز بنتے ہیں۔
پنجاب میں یونین کونسلوں کے وارڈز میں فی وارڈ تقریباً 600 گھرانے مقیم ہیں، ان 600 گھرانوں میں سے 40 کے قریب ایسے گھرانے نکلتے ہیں جو اپنے بچوں کو معاشی پریشانیوں کی وجہ سے تعلیم نہیں دلوا پاتے، ایک لاکھ 20 ہزار وارڈز کو اگر 40 گھرانوں کے ساتھ ضرب دی جائے تو یہ 48 لاکھ کے قریب گھرانے بنتے ہیں۔
اگر تمام حقدار قرار دیے گئے ایجوکیشن کارڈ کے حامل گھرانوں کے سربراہان کو دو لاکھ فی خاندان کے حساب سے ایجوکیشن کارڈ پر رقم خرچ کرنے کی سہولت فراہم کی جائے تو یہ رقم 960 ارب روپیہ بنتی ہے، اس سکیم کے لئے مختص رقم کا اگر میرٹ اور کرپشن سے پاک خرچ کا نظام وضع کیا جائے تو مختص کردہ رقم سے 50 فیصد سے زیادہ کے اخراجات نہیں ہوں گے۔
میرا ماننا ہے کہ اگر حکومت پنجاب صحت کارڈ اور تعلیمی کارڈ پر عوام کو دی جانے والی سہولت پر رقم خرچ کرنے کے لیے ہر وارڈ میں ایک تین رکنی کمیٹی قائم کر دے جس کا سربراہ اس وارڈ میں قائم سرکاری سکول کا سربراہ ہو اور اس گاؤں کی جامعہ مسجد کے امام اور نمبردار اس کمیٹی کے ممبر ہوں، اس شفافیت کی وجہ سے گورنمنٹ آف پنجاب صحت کارڈ پر خرچ ہونے والی رقم سے پنجاب کے باسیوں کو صحت کے ساتھ تعلیم جیسی انمول سہولت دینے میں کامیاب ہو جائے گی۔
پنجاب بھر میں ایسے تمام گھرانے جن کو سب سے زیادہ پریشانیاں تعلیم اور صحت کی وجہ سے ہیں ان کی یہ دونوں پریشانیاں حل ہو جائیں گی، وسائل کا ضیاع نہیں ہوگا بلکہ وسائل صحیح معنوں میں عوامی خدمت کے لیے لگیں گے۔ حکومت پنجاب کے اس عمل سے انہیں عوامی پذیرائی بھی ملے گی، عام آدمی کے اندر اطمینان آئے گا۔
جب عام گھرانوں کے بچے اعلی وکیشنل اور ٹیکنیکل تعلیم حاصل کریں گے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے گھر والوں کے لیے باعزت روزگار کا سبب بنیں گے تو اس سے پنجاب بھر میں تعلیمی انقلاب کے ساتھ ساتھ معاشی انقلاب آئے گا، جب معاشی انقلاب آئے گا تو اس سے معاشی سرگرمیاں زور پکڑیں گی، معاشی سرگرمیاں زور پکڑنے کی وجہ سے معیشت کا پہیہ چلے گا۔
جب لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہوگی تو اس سے امن و امان کی حالت بہتر ہوگی اور جب امن و امان کی حالت بہتر ہوگی تو لوگوں کا اپنی حکومت پر اعتماد بڑھے گا۔ نون لیگ کی صوبائی حکومت کے اس اقدام کی وجہ سے نون لیگ کی پنجاب میں گرتی ہوئی ساخت بحال ہوگی اور اگلے جنرل الیکشن میں ن لیگ پنجاب میں بھرپور مقابلے کی پوزیشن میں آ جائے گی۔
