جہلم کی معروف علمی، دینی و سماجی شخصیت مولانا الحاج ڈاکٹر مقبول الرحمن قادریؒ انتقال کر گئے

جہلم: جہلم کی ممتاز علمی، دینی، روحانی اور سماجی شخصیت، گولڈ میڈلسٹ حضرت مولانا الحاج ڈاکٹر مقبول الرحمن قادری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کی خبر سے جہلم شہر اور گردونواح میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ، فاتحہ خوانی اور قل شریف کی تقریبات میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات، علمائے کرام، مشائخ عظام اور عوام الناس نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے مرحوم سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا۔

حضرت مولانا الحاج ڈاکٹر مقبول الرحمن قادریؒ، مولانا حافظ حنیف الرحمن، ڈینٹل ٹیکنیشن ڈاکٹر عزیز الرحمن، مولانا مطلوب الرحمن، ڈاکٹر عتیق الرحمن اور ڈاکٹر توفیق الرحمن کے والدِ محترم، جبکہ جہلم کی معروف مذہبی شخصیت مجاہدِ اہلِ سنت علامہ صاحبزادہ ابوبکر سلطانی کے نانا جان تھے۔ مرحوم کے انتقال پر اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، احباب اور عقیدت مندوں میں گہرے رنج و غم کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ، فاتحہ خوانی اور قل شریف کی تقریبات میں رکنِ قومی اسمبلی جہلم چوہدری فرخ الطاف، چوہدری عمار فرخ، سابق رکنِ صوبائی اسمبلی چوہدری سعید کے صاحبزادے چوہدری حمزہ سعید سمیت جید علمائے کرام، مشائخ عظام، ڈاکٹرز، افسران، وکلاء، عزیز و اقارب، احباب اور معززینِ علاقہ نے شرکت کی۔ شرکاء نے مرحوم کی دینی و سماجی خدمات، اعلیٰ اخلاق اور شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

حضرت مولانا الحاج ڈاکٹر مقبول الرحمن قادریؒ کی شخصیت علم و دین، شرافت، محبت، رواداری، اعلیٰ اخلاق اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج تھی۔ آپ اپنی دینی وابستگی، وسیع سماجی روابط، خلوصِ نیت اور عوام الناس کے ساتھ مشفقانہ رویّے کے باعث علمی، دینی اور سماجی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ آپ کی وفات سے جہلم ایک ایسی باوقار شخصیت سے محروم ہوگیا ہے جس کی خدمات، اخلاق اور محبتوں کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

آستانہ مقدسہ قادریہ چھوہر شریف سے گہری روحانی وابستگی

مرحوم کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو عالمِ اسلام کی معروف روحانی خانقاہ آستانہ مقدسہ قادریہ چھوہر شریف، ہری پور ہزارہ سے گہری عقیدت اور وابستگی تھا۔ آپ تاجدارِ چھوہر شریف حضرت خواجہ عبدالرحمن چھوہروی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کی اولادِ امجاد رحمۃ اللہ علیہم سے خصوصی محبت و عقیدت رکھتے تھے۔

آپ کی روحانی وابستگی کا ایک اہم پہلو حضرت خواجہ عبدالرحمن چھوہرویؒ کی تصنیفِ مبارک، تیس پاروں پر مشتمل مجموعۂ پاک صلوات الرسول ﷺ سے گہرا تعلق تھا۔ مرحوم نے زندگی کے آخری لمحات تک اس مبارک مجموعے سے اپنی وابستگی برقرار رکھی۔

مرحوم کی یہ روحانی نسبت ان کے اہلِ خانہ، متعلقین اور عقیدت مندوں کے لیے ایک قیمتی یادگار اور قابلِ احترام سرمایہ ہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں دینی اقدار، روحانی معمولات، انسانی ہمدردی اور معاشرتی بھلائی کو خصوصی اہمیت دی۔

حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کی روشن مثال

حضرت مولانا الحاج ڈاکٹر مقبول الرحمن قادریؒ ان شخصیات میں شمار ہوتے تھے جن کی پہچان محض نام یا مقام نہیں بلکہ ان کا کردار، حسنِ اخلاق اور لوگوں کے دلوں میں موجود محبت ہوتی ہے۔ آپ ہر طبقۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ احترام، شفقت اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ دینی و مذہبی حلقوں کے ساتھ ساتھ سماجی اور عوامی سطح پر بھی آپ کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

مرحوم کے انتقال پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، علمائے کرام، مشائخ عظام، عزیز و اقارب، احباب اور عوام الناس نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ نمازِ جنازہ اور قل شریف کی تقریبات میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس امر کی عکاس تھی کہ مرحوم نے اپنے خلوص، حسنِ سلوک اور محبت کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں ایک منفرد مقام حاصل کیا تھا۔

بلاشبہ انسان کی اصل میراث اس کی نیکیاں، اخلاق، دینی خدمات اور وہ محبتیں ہوتی ہیں جو اس کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ حضرت مولانا الحاج ڈاکٹر مقبول الرحمن قادری رحمۃ اللہ علیہ کی دینی و روحانی وابستگی، اخلاقی وقار اور سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button