بجلی صارفین کیلئے مشکلات میں اضافہ، ڈاکخانوں کے بعد نجی بینکوں نے بھی بل وصولی سے انکار کر دیا

پڑی درویزہ/ سوہاوہ: اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی جانب سے جاری کردہ نئے فیصلے نے بجلی صارفین کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔

ڈاکخانوں کے بعد اب نجی بینکوں نے بھی بجلی کے بل جمع کرنے سے انکار کر دیا، جس سے شہروں اور دیہاتوں کے صارفین کو بل جمع کرانے میں سخت دقتوں کا سامنا ہے۔ عوامی شکایات کے باوجود حکومت اور متعلقہ ادارے مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

آئیسکو کی جانب سے جاری کیے گئے حالیہ احکامات کے تحت ڈاکخانوں میں بجلی کے ماہانہ بلوں کی وصولی روک دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں راولپنڈی ڈویژن کے دور دراز علاقوں کے صارفین بجلی بل جمع کرانے کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ عوامی سطح پر پہلے بھی اس فیصلے پر شدید ردعمل دیا جا چکا ہے، لیکن وزارتِ پانی و بجلی اور دیگر متعلقہ ادارے تاحال اس معاملے پر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں۔

اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایزی پیسہ، جیز کیش اور دیگر موبائل کیش سروسز سے منسلک کاروباری حضرات صارفین سے بل جمع کرانے کے بدلے میں اضافی چارجز وصول کر رہے ہیں، جسے صارفین نے "استحصال” قرار دیا ہے۔

صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت ایک جانب ٹیکسوں کے بوجھ تلے عوام کو دبائے جا رہی ہے، اور دوسری جانب ضروری سہولیات سے بھی محروم کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اب بعض نجی بینکوں نے بھی بجلی کے بل جمع کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس سے بلوں کی وصولی کا مسئلہ مزید سنگین ہو چکا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب ڈاکخانہ جیسا بنیادی اور ریاستی ادارہ بھی سروس سے محروم کر دیا جائے تو عوام کی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بجلی صارفین نے وفاقی وزیر پانی و بجلی اویس لغاری، چیف ایگزیکٹو آئیسکو اور دیگر اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکخانوں میں بجلی کے بل وصولی کا سلسلہ فوری طور پر بحال کیا جائے، تاکہ صارفین کو ان کے قریبی مقامات پر سہولت میسر آ سکے اور وہ نجی اداروں کے غیرضروری چارجز سے محفوظ رہیں۔

عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت اس مسئلے کا فوری نوٹس لے اور صارفین کو بنیادی سہولت واپس دلانے کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔

Exit mobile version