منگلا ڈیم اپنی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ منگلا ڈیم 95 فیصد بھر چکا ہے اور مزید تقریباً 5 فٹ کی گنجائش باقی ہے جبکہ پانی کا ذخیرہ 68 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ تک پہنچ چکا ہے۔
ترجمان واپڈا کے مطابق منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 32 ہزار 500 کیوسک جبکہ اخراج صرف 9 ہزار کیوسک ہے، جس کی بدولت پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق منگلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1237 اعشاریہ 15 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ پانی کا ذخیرہ 68 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ تک پہنچ چکا ہے۔ اس وقت منگلا ڈیم 95 فیصد بھر چکا ہے اور مزید تقریباً 5 فٹ کی گنجائش باقی ہے۔
وفاقی وزیر مملکت برائے آبی وسائل معین وٹو نے کہا ہے کہ منگلا ڈیم ملکی معیشت اور زرعی پیداوار کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، خوش آئند بات یہ ہے کہ ڈیم میں پانی کا ذخیرہ اپنی بلند ترین سطح کے قریب ہے، تاہم پانی کے محفوظ اور دانشمندانہ استعمال کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق دریائے جہلم میں اس وقت پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے اور کسی بھی خطرے کی صورتحال درپیش نہیں، تاہم واپڈا اور فلڈ کمیشن کی ٹیمیں مسلسل نگرانی کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سیلابی خطرے کی صورت میں بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق منگلا ڈیم کا بھر جانا جہاں بجلی پیدا کرنے کی استعداد میں اضافہ کرے گا وہیں کسانوں کے لیے خوشخبری ہے کیونکہ خریف اور ربیع دونوں فصلوں کے لیے پانی کی وافر دستیابی ممکن ہو سکے گی۔ تاہم اگر بروقت اور منصفانہ تقسیم نہ کی گئی تو کسانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
