معاشرے یا ادارے کی ترقی کا دارومدار باہمی ہم آہنگی اور عوامی شمولیت پر ہوتا ہے، میر رضا اوزگن

سوہاوہ: القادر یونیورسٹی میں “کوارڈینیشن اینڈ انگیجمنٹ” کے عنوان سے ایک پروقار اور بامقصد سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں انتظامی افسران، مذہبی اسکالرز اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن تھے، جبکہ ممتاز مذہبی اسکالر بابا عرفان الحق اور اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ نے بھی بطور مہمانِ خصوصی شرکت کر کے تقریب کو رونق بخشی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن نے ’’کوارڈینیشن اور انگیجمنٹ‘‘ کو عصرِ حاضر کی ناگزیر ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرے یا ادارے کی ترقی کا انحصار باہمی ہم آہنگی اور عوامی شمولیت پر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاہے انتظامی امور ہوں یا سماجی خدمات، جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط رابطہ اور عوام کے ساتھ براہِ راست تعلق قائم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک مثبت اور دیرپا نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

میر رضا اوزگن نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ عملی زندگی میں ٹیم ورک، رابطے کی صلاحیتوں اور مثبت طرزِ فکر کو اپنائیں تاکہ ایک مضبوط، مستحکم اور بااعتماد معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

اس موقع پر معروف روحانی پیشوا بابا عرفان الحق نے بھی خطاب کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت، اخلاقی اقدار اور باہمی احترام کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مضبوط سماجی روابط ہی ایک پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی ضمانت ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے معزز مہمانوں کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ القادر یونیورسٹی طلبہ کی فکری و عملی تربیت کے لیے مستقبل میں بھی ایسے بامقصد سیمینارز کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

بدھ کی صبح ساڑھے گیارہ بجے شروع ہونے والی یہ تقریب اپنے مقررہ اہداف کے حصول کے ساتھ کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button