جہلم میں پرائیویٹ ایمبولینس مالکان کی مریضوں سے لوٹ مار، شہریوں کا شدید احتجاج

جہلم: ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جہلم کے باہر کھڑی پرائیویٹ ایمبولینس گاڑیوں کے مالکان نے غریب اور لاچار مریضوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا معمول بنا لیا۔ ہسپتال آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین نے ایمبولینس سروسز کی من مانیاں اور لوٹ مار پر شدید احتجاج کیا ہے۔
معمول کے دنوں میں جہلم سے راولپنڈی جانے کا کرایہ تقریباً 7 ہزار روپے ہوتا ہے، لیکن پرائیویٹ ایمبولینس مالکان مریضوں سے 10 ہزار روپے تک وصول کر رہے ہیں۔ اسی طرح لاہور کے لیے عام کرایہ 13 سے 14 ہزار روپے ہوتا ہے، مگر مریضوں سے 17 سے 18 ہزار روپے تک کی رقم وصول کی جا رہی ہے۔
جب ہسپتال سے مریضوں کو ریفر کیا جاتا ہے تو لواحقین مجبوری کے تحت انہی ایمبولینس ڈرائیورز سے رابطہ کرتے ہیں، جو موقع کا فائدہ اٹھا کر من مانے ریٹ وصول کرتے ہیں۔
مریضوں کے لواحقین نے ڈپٹی کمشنر جہلم، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) اور ڈی ایس پی ٹریفک سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تمام پرائیویٹ ایمبولینس گاڑیوں کے کرایہ نامے ہسپتال کے باہر اور ایمبولینس کے اندر نمایاں جگہ پر آویزاں کیے جائیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ زائد کرایہ وصول کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں تاکہ اس بے لگام لوٹ مار کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔



