پاکستانی قوم کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آخر ہمارے ملک میں ہو کیا رہا ہے؟ کاروباری افراد اپنے کاروبار فروخت کرکے بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں، زمیندار اپنی زمینیں بیچ کر دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں، ملازمت پیشہ افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑ رہے ہیں، جبکہ ڈاکٹرز، انجینئرز، ماہرینِ معاشیات اور دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی بیرونِ ملک مواقع تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
ذرا سوچیے! آخر کیوں؟
کیا پاکستانی قوم نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر پاکستان اس لیے حاصل کیا تھا کہ ایک دن اسی وطن کے شہری اپنی پہچان، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کو یہاں غیر محفوظ سمجھتے ہوئے دوسرے ممالک کی شہریت حاصل کرنے کی کوشش کریں؟ کیا یہ صورتِ حال ہمارے لیے لمحۂ فکریہ نہیں؟
اب اصل سوال یہ ہے کہ اس قومی، سماجی اور معاشی صورتِ حال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
کیا صرف عوام اس صورتِ حال کے ذمہ دار ہیں، یا ان حکمران طبقات اور بااثر اشرافیہ سے بھی جواب طلبی ہونی چاہیے جن پر قومی وسائل کے غیر منصفانہ استعمال، بدعنوانی اور عوامی مسائل سے غفلت کے الزامات لگتے رہے ہیں؟
ایک طرف عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات سے نبرد آزما ہے، جبکہ دوسری طرف بااثر طبقے کی بیرونِ ملک کاروباری سرگرمیوں، اثاثوں اور خاندانی مفادات کے حوالے سے شفافیت اور جواب دہی کے سوالات اٹھتے ہیں۔
اگر وطن کے وسائل اور مواقع چند طبقات تک محدود ہو جائیں تو عام شہری اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کہاں جائے؟
کیا 24 کروڑ پاکستانیوں کا مستقبل صرف نعروں، وعدوں اور سیاسی وابستگیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اجتماعی شعور کا مظاہرہ کریں اور قومی مفاد کو ذاتی و سیاسی وابستگیوں پر ترجیح دیں۔
ہمیں چاہیے کہ:
-
✊ شخصیات کی اندھی حمایت کے بجائے اصولوں کی حمایت کریں۔
-
✊ سیاسی نعروں کے بجائے تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کا مطالبہ کریں۔
-
✊ قومی وسائل کے شفاف استعمال اور ہر سطح پر احتساب کے لیے آواز اٹھائیں۔
-
✊ جمہوری، آئینی اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے ایسے پاکستان کی تعمیر کا مطالبہ کریں جہاں صلاحیت کی قدر ہو، محنت کا صلہ ملے اور کسی پاکستانی کو مجبوری میں اپنا وطن چھوڑنے کا احساس نہ ہو۔
یاد رکھیے!
قومیں صرف آزادی حاصل کرنے سے عظیم نہیں بنتیں، بلکہ اپنے شہریوں کو عزت، انصاف، تحفظ اور بہتر مستقبل فراہم کرنے سے عظیم بنتی ہیں۔
اب وقت ہے کہ ہم ’’آوے ای آوے، جاوے ای جاوے‘‘ کے دائروں سے نکل کر قومی مفاد، اجتماعی شعور اور جواب دہی کی بات کریں۔ سیاسی وابستگیاں اپنی جگہ، لیکن ملک اور قوم کا مستقبل ہر چیز سے مقدم ہونا چاہیے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی ترقی صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ عوام، اداروں، کاروباری طبقے، اہلِ علم اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط ریاست کی بنیاد انصاف، میرٹ، شفافیت، قانون کی بالادستی اور عوام کو یکساں مواقع فراہم کرنے پر استوار ہوتی ہے۔
ورنہ تاریخ آنے والی نسلوں کے سامنے ہم سب سے یہ سوال ضرور کرے گی: جب وطن کے مستقبل پر سوالیہ نشان تھا، تو ہم نے اپنی ذمہ داری کتنی نبھائی؟
پاکستان زندہ باد — پاکستانی عوام پائندہ باد!
لکھاری راجہ محمد زبیر جنجوعہ، پنجاب جنجوعہ راجگان آل پاکستان کے صدر اور پاکستان جنجوعہ راجگان آل پاکستان کے چیف کوآرڈینیٹر ہیں۔
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
