جہلم میں آوارہ کتوں کی مٹر گشت، گلی محلوں میں ہنستی کھیلتی ننھی جانوں پر موت کے سائے منڈلانے لگے

جہلم شہر اور گردونواح میں آوارہ کتوں کے جھنڈ کثرت سے مٹر گشت کرتے دکھائی دینے لگے، گلی محلوں میں ہنستی کھیلتی ننھی جانوں پر موت کے سائے منڈلانے لگے، میونسپل کمیٹی سمیت محکمہ صحت کی انتظامیہ آوارہ کتوں کو تلف کرنے کی بجائے خاموش تماشائی کا کردارا دا کرنے لگے ، ضلع بھر کے چھوٹے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں اینٹی ڈاگ ویکسین نایاب، شہریوں کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق شہر و مضافاتی علاقوں میں آوارہ کتوں کے جھنڈ دندناتے نظر آتے ہیں جبکہ آوارہ کتوں کے لشکر شہریوں سمیت معصوم بچوں کی جانوں کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں ، یہ کتے گلی ، محلوں میں کھیلتی معصوم جانوں اور گلی محلوں سے گزرنے والی خواتین کے لئے چلنے پھرتے موت کا پیغام ہیں۔
دریں اثناء اکثر اوقات آوارہ کتے موٹر سائیکل سواروں کے پیچھے بھونکتے اور بھاگتے دکھائی دیتے ہیں جس کیوجہ سے اکثر و بیشتر موٹر سائیکل سوار ان کتوں سے بچنے کے لئے کسی نہ کسی چیز سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
شہریوں نے اندرون شہر کے گلی محلوں میں موجود آوارہ کتوں کو تلف کرنے کے لئے میونسپل کمیٹی اور محکمہ صحت کے ذمہ داران کو متعدد بار تحریری و ذبانی طور پر آگاہ کیا لیکن آوارہ کتوں کو تلف کرنے کی بجائے متعلقہ محکموں کے ذمہ داران کسی بڑے حادثے کے انتظار میں ہیں۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ضلع جہلم کے چھوٹے ، برے ہسپتالوں میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کی ویکسین دستیاب نہیں جس کیوجہ سے متاثرین کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر/ ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی ، سی ای او ہیلتھ اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سے مطالبہ کیاہے کہ شہر میں دندناتے آوارہ کتوں کی بابت متعلقہ محکموں کے ذمہ داران کو آوارہ کتوں کو تلف کرنے کے احکامات اور ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں موجود سرکاری ہسپتالوں میں اینٹی ڈاگ ویکسین کی فراہمی ممکن بنائی جائے تاکہ شہری بلا خوف وخطر زندگیاں گزار سکیں۔



