شدید سردی؛ جہلم میں سوئی گیس کی بندش، لکڑی اور کوئلے کی قیمتوں میں من مانا اضافہ

14

جہلم میں شدید سردی کی لہر کے ساتھ ہی سوئی گیس کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

شہر کے متعدد علاقوں میں گیس کی بندش کے باعث گھریلو صارفین کھانا پکانے اور خود کو سردی سے بچانے کے لیے متبادل ایندھن استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سوئی گیس کی عدم دستیابی کے سبب شہری لکڑی، کوئلہ اور اوپلے جلانے پر انحصار کر رہے ہیں، تاہم ان اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

کوئلہ اور ٹمبر مافیا نے عوام کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر دیا ہے۔ شہر میں کوئلہ ایک ہزار روپے فی من تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ گیلی لکڑی کی قیمت 1200 روپے فی من تک جا پہنچی ہے۔ اس کے برعکس خشک لکڑی تقریباً نایاب ہو چکی ہے، جس کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ دیہی علاقوں میں اوپلوں کی مانگ میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جو 500 روپے فی من کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ناشتہ، دوپہر اور رات کے اوقات میں گیس کی بندش معمول بن چکی ہے، جس کی وجہ سے گھریلو نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ شہریوں کے مطابق بعض علاقوں میں اگر گیس فراہم بھی کر دی جاتی ہے تو اس کا پریشر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، جس سے چولہے جلانا بھی ممکن نہیں رہتا۔ سردی کی شدت میں اس صورتحال نے بچوں، بزرگوں اور مریضوں کے مسائل کو دوچند کر دیا ہے۔

شہریوں نے شکایت کی ہے کہ گیس کی بندش کے ساتھ ساتھ متبادل ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے نہ تو گیس کی فراہمی کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور نہ ہی لکڑی و کوئلے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نظر آ رہے ہیں۔

شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کے مسئلے کا فوری حل نکالا جائے، متبادل ایندھن کی قیمتوں پر کنٹرول کیا جائے اور ذخیرہ اندوزوں و منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو شدید سردی کے اس موسم میں کچھ ریلیف مل سکے۔

Exit mobile version