جامعہ علوم اثریہ جہلم میں 23ویں سالانہ فری آئی کیمپ کا افتتاح، مریضوں کا رش

جہلم: جامعہ علوم اثریہ جہلم میں 23ویں سالانہ فری آئی کیمپ کا شاندار آغاز ہو گیا۔

پہلے روز ہی مریضوں کا ہجوم دیکھنے میں آیا، جہاں ہزاروں افراد نے اپنی آنکھوں کا معائنہ کروایا اور سینکڑوں مریضوں کے آپریشنز بھی کیے جائیں گے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ علوم اثریہ کے مہتمم اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر حافظ عبدالحمید عامر نے کہا کہ اسلام صرف عبادات کا دین نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو انسانیت کی خدمت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ علوم اثریہ نہ صرف دینی اور دنیوی تعلیم کا بین الاقوامی ادارہ ہے بلکہ عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لیے بھی متعدد منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے۔

حافظ عبدالحمید عامر نے بتایا کہ اس سالانہ فری آئی کیمپ کا انعقاد "کے ایس ریلیف سعودی عرب” اور "الابراہیم آئی ہسپتال” کے تعاون سے کیا جا رہا ہے، جس میں عالمی معیار کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ہزاروں مریضوں کا مفت معائنہ اور آپریشن کرے گی۔ مریضوں کو مفت ادویات، عینکیں اور آئی او ایل لینز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے رہائش اور کھانے کا بھی مفت انتظام موجود ہے۔

افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم طارق عزیز سندھو نے کیمپ کو خدمتِ خلق کا عظیم نمونہ قرار دیا اور انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی خدمات معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کا سبب بنتی ہیں۔

اس موقع پر مدیر الجامعہ حافظ احمد حقیق، نائب مدیر الجامعہ حافظ عبدالغفور مدنی، مدیر امور داخلی مولانا سعد محمد مدنی، مدیر التعليم مولانا عکاشہ مدنی، حاجی ملک محمد اقبال، ڈاکٹر شاہد تنویر جنجوعہ، ارشد محمود زرگر، سیٹھی محمد ارشد، مرزا زاہد افضل اور عامر سلیم علوی سمیت دیگر معززین بھی موجود تھے۔

کیمپ مینجر رضوان احمد بلوچ اور ڈاکٹروں کی ٹیم جن میں ڈاکٹر ارشاد عباسی، ڈاکٹر محمد عرفان، ڈاکٹر عمار احمد اور ڈاکٹر عبدالاحد شامل ہیں، نے کیمپ کے بہترین انتظامات کی نگرانی کی۔

حافظ عبدالحمید عامر نے آخر میں مخیر حضرات کے مالی تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بدولت یہ کارِ خیر ہر سال کامیابی سے جاری ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button