جہلم: اندرون شہر پولیس اہلکاروں کی سرپرستی میں منشیات کا دھندہ، ندیم شاہ نامی ڈرگ ڈیلر پولیس اہلکاروں کی منشیات فروخت کرتا ہے۔ ٹاہلیانوالہ سے منشیات فروش ندیم شاہ کے مبینہ ساتھی قاسم کوزندہ حالت میں گرفتار کرکے جعلی پولیس مقابلے میں پار کیا گیا۔
مقتول قاسم کے ساتھ چند روز قبل واٹس ایپ پر ایک پولیس اہلکار سے کی گئی گفتگو بھی منظر عام پر آگئی۔ پولیس اہلکار قاسم منظر عام سے کچھ روز کے لیے غائب ہونے کا مشورہ دے رہا تھا، ندیم شاہ اور قاسم کو وائس میسج کرنے والے اہلکار کو گرفتار کرکے منشیات فروشی کا دھندہ کرنے والے پولیس اہلکاروں پر مشتمل گینگ کو پکڑا جا سکتاہے۔
رپورٹ کے مطابق ندیم شاہ نامی منشیات فروش بڑے پیمانے پر جہلم شہر کے مختلف علاقوں میں منشیات کا دھندہ کررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ندیم شاہ تین پولیس اہلکاروں کی منشیات فروخت کرتا ہے اور پشاور سے منشیات منگوائی جاتی ہے۔
گزشتہ سال ندیم شاہ نے پشاور سے 20 کلو چرس منگوائی، ٹاہلیانوالہ سے رقم ایزی پیسہ کی، جب منشیات جہلم پہنچی تو دو پٹھانوں، ایزی پیسہ کا کاروبار کرنے والے دکاندار، منشیات فروش ندیم شاہ کو سی آئی اے پولیس نے گرفتار کیا،نامعلوم مقام پر تفتیش کی گئی۔ منشیات فروش ندیم شاہ کو اسکی سرپرستی کرنے والے پولیس اہلکار پانچ لاکھ روپے دے کر لے گئے اور ایزی پیسہ کا کام کرنے والے دکاندار اور پٹھانوں کے خلاف مقدمہ منشیات کے مقدمات درج کرلیے گئے۔
جمعرات کے روز جہلم کے ٹاہلیانوالہ میں پولیس کانسٹیبل عمر جاوید نے منشیات فروشوں کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن پولیس اہلکاروں کی منشیات فروخت کرنے والے منشیات فروش ندیم شاہ اور اسکے ساتھی فرار ہو گئے جبکہ قاسم نامی ملزم کو کانسٹیبل عمر جاوید نے بہادری سے دبوچ لیا اس دوران کانسٹیبل عمر جاوید فائر لگنے سے زخمی ہوگیا جبکہ ملزم قاسم کو موقع سے زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا اور بعد ازاں جعلی مقابلے میں پار کردیا گیا۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب دو سے تین بجے کے دوران پولیس اہلکاروں نے ٹاہلیانوالہ کے قریب اندھا دھند فائرنگ کرکے عوام کی نظروں میں پولیس مقابلہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہمارے سامنے علاقہ مکینوں کی مدد سے مقتول قاسم کو پولیس گرفتار کرکے لے گئی اور جعلی مقابلے میں پار کیا۔
شہریوں نے چیف آف آرمی اسٹاف ،چیف جسٹس پاکستان،وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے منشیات کا دھندہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کا سراغ لگا کر انہیں سخت سزا دی جائے اور جعلی پولیس مقابلے کی تحقیقات کروا کر حقائق سامنے لائے جائیں۔
دوسری جانب ندیم شاہ کے قریبی عزیز رحمٰن شاہ المعروف کاکےشاہ نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ ندیم شاہ منشیات فروش نہیں ہے اور نہ ہی اسکا مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے قاسم اور نبیل عرف بھیلو نامی شخص سے کوئی تعلق ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات فروش معاشرے کے ناسور ہیں جو بچوں کا مستقبل تباہ اور گھر برباد کررہے ہیں، اگر کوئی منشیات فروشوں کی سرپرستی کرتا ہے یا منشیات بیچتا ہے تو اسکے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
