آج دل انتہائی بوجھل ہے، مگر زبان پر دعا اور امید کے چراغ روشن ہیں۔
جہلم پریس کلب کے بانی ممبر و معروف سینئر صحافی عبدالباسط مجاہد جو طویل عرصے سے پاکستان ٹیلی ویژن نیوز اور اے پی پی کے ساتھ جہلم کی نمائندگی کر رہے ہیں، نہ صرف صحافت کا معتبر نام ہیں بلکہ محبت، خلوص اور انسان دوستی کی جیتی جاگتی مثال بھی ہیں۔
میرا ان کے ساتھ صحافتی تعلق تقریباً اٹھارہ، بیس برس پر محیط ہے، جبکہ بھائیوں جیسی قربت کو تقریباً ایک دہائی گزر چکی ہے۔ میں نے عبدالباسط مجاہد کو ہمیشہ ایک نفیس، باوقار اور زندہ دل انسان پایا۔ انہیں اچھے کھانوں کا بے حد شوق ہے، اور یہ خوبی بھی کمال کی ہے کہ راولپنڈی سے لاہور تک جی ٹی روڈ پر کہاں معیاری کھانا دستیاب ہے، اس کی مکمل خبر رکھتے ہیں۔ ان کا رہن سہن ہمیشہ شاندار اور باوقار رہا۔ عمدہ گاڑیوں کا شوق، صاف ستھرا لباس، اور سادگی میں وقار—یہ سب ان کی شخصیت کا حصہ ہیں۔
لیکن ان تمام خوبیوں سے بڑھ کر جو چیز دل کو چھوتی ہے، وہ ان کا محبت بانٹنے والا انداز ہے۔ وہ دوستوں کے دوست اور اپنوں کے لیے سایہ دار شجر کی مانند ہیں۔
چند روز قبل عبدالباسط مجاہد نے سوشل میڈیا پر ایک تحریر شیئر کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ جہلم کیتھ لیب کے ڈاکٹروں نے چیک اپ کے بعد انہیں فوری طور پر آر آئی سی راولپنڈی رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ بعدازاں آر آئی سی کے ماہر ڈاکٹروں نے ان کے دل کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد اوپن ہارٹ سرجری تجویز کی۔
گزشتہ روز جب عبدالباسط مجاہد جہلم پریس کلب آئے تو دوستوں نے حسبِ سابق روایت ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ان کے چہرے پر پریشانی نہیں بلکہ عزم، حوصلہ اور اللہ کی رضا پر کامل یقین نمایاں تھا۔
دورانِ گفتگو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ “بھائی! زندگی کی پچاس بہاریں دیکھ لی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے والدین، بہن بھائیوں، اساتذہ کرام اور دوستوں کی دعاؤں کے صدقے عزت، محبت، شہرت اور بہترین زندگی عطا فرمائی۔ میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ان شاء اللہ 11 مئی بروز سوموار صبح آٹھ بجے آر آئی سی راولپنڈی میں ان کی اوپن ہارٹ سرجری متوقع ہے۔
ان کے لہجے میں خوف نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر مکمل بھروسہ تھا۔
عبدالباسط مجاہد نے اپنے چاہنے والوں کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا کہ “اگر میری کسی بات، رویے یا لفظ سے کسی دوست یا بھائی کو کبھی دکھ پہنچا ہو تو میں دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہوں۔ آپ سب سے صرف ایک درخواست ہے کہ میری صحت یابی کے لیے دعا کیجیے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے نئی زندگی عطا فرمائی تو ان شاء اللہ دوبارہ آپ سب کے درمیان ہوں گا۔”
میرے پیارے دوستو اور عزیزو!
آج ہمارا بھائی عبدالباسط مجاہد آپ کی، میری، ہم سب کی نیک دعاؤں کا طلبگار ہے۔ آئیے ہم سب مل کر اللہ رب العزت کے حضور ہاتھ اٹھائیں کہ وہ عبدالباسط مجاہد کو اس آزمائش میں سرخرو فرمائے، ان کی سرجری کامیاب کرے، انہیں صحتِ کاملہ عاجلہ عطا فرمائے اور دوبارہ ہنستا مسکراتا ہماری محفلوں کی رونق بنائے۔
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے عبدالباسط مجاہد کو کامل شفا عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبر و حوصلہ دے اور انہیں لمبی، صحت مند اور بابرکت زندگی نصیب فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
