مہنگی پیٹرولیم مصنوعات کا متبادل حل

مشرقِ وسطیٰ، خاص طور پر امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کی وجہ سے خام تیل کی عالمی قیمتیں کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہے۔ ایشیا کو 80 فیصد تیل اور ایل این جی اسی راستے سے ملتا ہے۔ پاکستان تقریباً سارا تیل درآمد کرتا ہے، لہٰذا قیمتوں میں اضافہ مہنگائی اور عوام پر مزید بوجھ بڑھا رہا ہے۔

8 اور 9 مئی کی درمیانی شب حکومت نے ایک مرتبہ پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے اضافہ کر دیا، جس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت تقریباً 415 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے پیٹرول بم گرانے کے بعد میں نے ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کے کرنٹ ریٹ کو جمع تقسیم کرنے کے بعد جو رزلٹ نکالا، اس نے ایک مرتبہ پھر مجھے چونکا دیا۔ اس وقت پاکستان کو ایک لیٹر پیٹرول 167 روپے میں پڑ رہا ہے، لیکن اس پر دو روپے فی لیٹر کیرج اور ایک روپیہ فی لیٹر ریفائنری کے اخراجات بھی ڈالیں، جو شاید فی لیٹر ایک روپیہ نہیں بلکہ چند پیسے بنتے ہیں، تب بھی پاکستان کو فی لیٹر پیٹرول 170 روپے میں پڑتا ہے۔

یہ جمع تقسیم سننے کے بعد میرے ایک دوست نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا کہ اس وقت خام تیل لانے پر فریٹ اور انشورنس چارجز نارمل دنوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ پھر کچھ آئل سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی بندرگاہ سے آ رہا ہے، جو آبنائے ہرمز کے تین دن کے مقابلے میں نو دن لیتا ہے، اس وجہ سے بھی پاکستان میں چارجز زیادہ ہیں۔

میں نے اصرار کیا کہ بھارت کی پیٹرولیم مصنوعات بھی وہاں سے ہی آتی ہیں جہاں سے پاکستان خریدتا ہے، تو پھر بھارت نے ریٹ کیوں نہیں بڑھائے؟ وہاں چند ماہ سے پرانے ریٹ کیوں برقرار ہیں؟ البتہ وہاں ہر ریاست میں پیٹرولیم مصنوعات کا ریٹ مختلف ہے، لیکن زیادہ سے زیادہ دس روپے کا فرق ہے، جو زیادہ فرق نہیں سمجھا جاتا۔

بھائی صاحب پھر مسکرائے اور فرمانے لگے کہ انڈیا کے پاس پاکستان سے زیادہ ریزرو ہیں، وہ زیادہ تر وہی استعمال کر رہا ہے۔ کچھ عرصے میں اس کو مکمل طور پر امپورٹ پر انحصار کرنا پڑے گا، پھر ان کے ریٹ بھی بڑھیں گے۔ لیکن انڈیا نے ٹیکس کم کرکے قیمتیں زیادہ نہیں بڑھنے دیں، جبکہ ہم پر آئی ایم ایف کا بھی دباؤ ہے کیونکہ ہم نے لیوی بڑھا کر ٹیکس ریونیو بھی پورا کرنا ہے۔ اس وجہ سے خطے کے دیگر ممالک کی نسبت ہم نے کئی گنا ریٹ بڑھا دیا ہے۔

لیکن اب پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کے متبادل حل کی جانب جانا چاہیے۔

پاکستان کو چاہیے کہ متجدد توانائی کے وسائل، جو قدرتی، ناقابلِ ختم ہونے والے اور ماحول دوست ہیں بلکہ طویل مدت میں سستے بھی پڑتے ہیں، ان کا استعمال بڑھا دے۔ سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنا، ہوا کی توانائی سے ونڈ ٹربائنز چلانا، ہائیڈرو پاور (پانی کے بہاؤ سے بجلی پیدا کرنا)، بائیو ماس اور بائیو گیس سے توانائی، اور جیو تھرمل توانائی کو استعمال کرے۔

پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرکے اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیاں (EV)، سولر پمپس اور سولر ہوم سسٹم پیٹرول اور ڈیزل کی جگہ لے سکتے ہیں، جس سے اربوں ڈالرز کی بچت بھی ہوگی اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کا دباؤ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

کیونکہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش چند ماہ اور رہی تو عالمی معیشت کو بھی شدید جھٹکا لگ سکتا ہے، لہٰذا پاکستان کو متجدد توانائی کی طرف منتقلی تیز کر دینی چاہیے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Exit mobile version