جہلم میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا افسوسناک واقعہ، ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل

جہلم کے علاقہ محمود آباد تھانہ کالا گوجراں کی حدود میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے افسوس ناک واقعہ کا معاملہ، ڈی پی او جہلم نے معاملہ کی حساسیت کو مدنظر رکھتےہوئے ایس پی انویسٹی گیشن جہلم کی سربراہی میں اعلی افسران پر مشتمل 2 ٹیمیں تشکیل دے دیں۔

ترجمان جہلم پولیس نے بتایا کہ ایک ٹیم ڈی ایس پی سوہاوہ ، ایس ایچ او کالا گوجراں اور دیگر پر مشتمل جسے آئی ٹی کی مدد حاصل ہو گی جبکہ دوسری ٹیم ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم یونٹ انسپکٹر نثار احمد ایس ایچ او صدر انچارج آئی ٹی اور دیگران پر مشتمل ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ایس پی انویسٹی گیشن جہلم روز مرہ کی بنیاد پر دونوں ٹیموں سے میٹنگ کر کے فیڈ بیک حاصل کریں گے اور پراگریس سے متعلق ڈی پی او جہلم کو آگاہ رکھیں گے۔

ڈی پی او جہلم ناصر محمود باجوہ نے کی تمام فیلڈ افسران کو جلد از جلد بد بخت ملزمان کو ٹریس کرنے کی ہدایات کیں اور کہا کہ اسلامی شعار کا احترام بحیثیت مسلمان ہم سب پر واجب ہے، قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی بے ادبی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

دو روز قبل پولیس نے بتایا کہ جہلم کے علاقہ محمود آباد سے ابتدائی طور پر تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز کو قبضے میں لے لیا گیا ہے اور نذر آتش کیے گئے قرآن پاک کے نسخے کو بھی اعلیٰ افسروں سے مشاورت کے بعد فرانزک جانچ کیلئے بھجوایا جائے گا۔ پولیس کے مطابق ابھی مقدمہ کی تفتیش شروع کی ہے اور ابتدائی مراحل میں ہے، امید ہے جلد ہی کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔

مقدمہ کے مدعی محمد علی جو خود ایک سرکاری ملازم ہیں، ان کے مطابق قرآن اور احادیث کے نسخوں کو آگ لگانے کا یہ واقعہ 29 مارچ کی شام کو پیش آیا لیکن مقدمہ 31 مارچ کی صبح 8 بجے کے قریب درج کروایا گیا۔

مقدمہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 اے کو شامل کیا گیا ہے جس کے تحت مذہبی جذبات کو جان بوجھ کر ٹھیس پہنچانے کا جرم ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ 10 سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جا سکتی ہیں جبکہ 295 بی کی دفعہ کے مطابق جان بوجھ کر قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے، اس کو جلانے کے جرائم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا تعزیرات پاکستان میں مقرر کی گئی ہے۔

مقدمہ کے تفتیشی افسر راجہ مرتضیٰ فردوس نے بتایا کہ واقعہ کی چھان بین جدید آلات کے ذریعے اور کیمروں کی مدد سے کی جا رہی ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق وقوعہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے۔ ان ویڈیوز کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ملزموں کی شناخت کی جائے گی کیونکہ مدعی مقدمہ نے بھی کسی ملزم کو نامزد نہیں کیا اور نا ہی کسی نے ابھی تک ملزمان کی شناخت کی ہے۔

مقدمہ کے مدعی محمد علی کے بقول ان کی والدہ بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتی ہیں، اسی وجہ سے محلے کا بچہ قرآن کے نذر آتش کیے گئے نسخے پارک سے اٹھا کر ان کے گھر لے آیا تھا۔ مدعی کے بقول انہوں نے خود بھی اچھی طرح چھان بین کرنے کے بعد پولیس سے رجوع کیا۔

مدعی نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ کی اطلاع تھانہ کالا گجراں میں دی جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر پارک کا جائزہ لیا اور جس بچے کو جلے ہوئے نسحے ملے تھے، اس کے والدین سے بھی پولیس نے پوچھ گچھ کی۔

اُدھر تفتیشی افسر کے مطابق قرآن کے نسخے کو اعلیٰ افسروں سے مشاورت کے بعد فرانزک معائنے کیلئے بجھوایا جائے گا تا کہ یہ تعین ہو سکے کہ قرآن مجید کا نسخہ کس حد تک جلا ہے۔

پولیس کے بقول ابتدائی تفتیش کے مطابق قرآن مجید کے حروف محفوظ ہیں لیکن نسخے کے کنارے جل چکے ہیں۔

مدعی مقدمہ نے کہا کہ 30 مارچ کو واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کو یہ بھی درخواست کی تھی کہ وقوعہ کے قریب گھروں میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں ان کی مدد سے ملزموں کی شناخت کر لی جائے لیکن پولیس اتوار 31 مارچ کی شام 5 بجے تک ویڈیوز حاصل نہیں کر پائی تھی۔

تحقیقاتی افسر راجہ مرتضیٰ فردوس کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں، اس پر وہ ابھی کوئی رائے نہیں دے سکتے اور مقدمہ میں کوئی ملزم نامزد نہیں، اسی وجہ سے امن کمیٹی کا اس میں کوئی کردار نہیں تاہم مقدمہ درج ہونے کے بعد علاقے میں حالات پُرامن ہیں۔

یاد رہے 2015 میں جہلم میں توہین قرآن کے واقعہ کے بعد صورت حال کشیدہ ہو گئی تھی جس کی وجہ سے فوج طلب کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button