لوگوں کی واہ واہ لینے کی بجائے صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کریں، امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ راہ سلوک اورشعبہ تصوف کا مسافر ہونا اور اس نازک ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے حضرت قاسم فیوضات مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ کا حکم فرمانا اور آج کے دن سات سال کا عرصہ گزر جانا۔ آپؒ کا وصال 7 دسمبر 2017 کو مغرب سے کچھ وقت بعد ہوا اس دن سے اپنی کوشش کی کہ آپؒ کی دی گئی امانت اور سینہ بہ سینہ برکات محمد رسول ﷺ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہوئے خلق خدا تک پہنچاؤں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے ماہانہ اجتماع کے موقع پر ہزاروں مرد اور خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رب کریم پر یقین ہے کہ جہاں مخلوق خدا کا دخل ہو گا اور بر گزیدہ ہستیوں کی مبارک راہ پر ہونا نصیب فرمایااپنی غلطیوں اور کمزوریوں کے باوجود یہ ڈھارس بندھ جاتی ہے کہ اللہ کریم مہربانی اور کرم فرمائیںگے تو یہ بخشش کا سبب ہو جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حضرت ؒ نے جو امانت ہمارے سپرد کی ہے اورہمارے سینوں میں برکات محمد رسول ﷺ انڈیلی ہیں۔ ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ دینی اور عملی پہلوؤں میںہم کہاں کھڑے ہیں۔ یہی بہترین طریقہ ہے کہ یوم وصال کو یاد کریں۔
سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے کہا کہ ہمارے اندرحرص و لالچ اس قدر آگئی ہے کہ ہم اپنے عزیز ترین رشتوں میں بھی لحاظ کو بالائے طاق رکھ کر بہنوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے ہیں۔ یہ وہ رشتہ ہے کہ بھائی بہنوں کے سروں پر ہاتھ رکھیں انکی معاونت کریں یہ سب اس وجہ سے کہ ہم نے قناعت چھوڑ دی ہے ۔ اسکو چھوڑنے سے ہم اندھے ہو گئے ہیں اور اپنے فرائض کو بھول جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کریم سے مغفرت طلب کرتے ہوئے اپنی کم آئیگی کا اظہار کریں اور صوفیاء اکرام فرماتے ہیں کہ تہجد پڑھا کرو اور سحری کا ذکرکیا کرو تا کہ بندہ مومن کو وہ ثمر نصیب ہو تا ہے جو کہ آنے والے دنوں میں بیج بن کر منفقین، قانتین، صادقین، صابرین والی خصو صیات نصیب ہونا شروع ہو جاتی ہیںاور مغفرت کی طلب کرتے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ آج ہمیں اپنے شیخ ؒسے محبت اور اظہار محبت کا ہونا اسکا بہترین اظہار یہ ہے کہ اپنا جائزہ لیں گردوپیش کو چھوڑ دیں معاشرے کو اس نظر سے چھوڑ دیں کہ وہ "یہ”کر رہا ہے ۔ لوگوں کو کنویں میں چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھ کر کنویں میں کودنا درست نہیں۔ لوگ حرام کھا رہے ہیں میں بھی کھانا شروع کر دوں یہ عمل ٹھیک نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنا گھر، اپنی اولاد، اپنے والدین جہاں تک اسکا حکم چلتا ہے اسکے اوپر انکی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ اللہ کر رہے ہیں، دین متین پر عمل کر رہے ہیں؟ اپنی اولاد کو حکمت کے ساتھ راہ راست پر رکھنے کی پوری کوشش کریں اور یہ تب ہوگا جب آپ خود عمل صالح کریں گے اور بحیثیت سالک دوسروں تک زکر الہی کی دعوت پہنچانا بھی انفاق فی سبیل اللہ ہے اور یہ پودے صدقہٗ جاریہ ثابت ہونگے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے آخر میں کہا کہ آنے والے حالات اچھے نہیں ہیں اور بحیثیت مجموعی ہم نے دنیا میں اپنے حالات عزت والے نہیں چھوڑے۔ ایسی کوئی بات ایسا کوئی عمل جو پوری امت کے لئے تکلیف کا سبب بن رہا ہو چاہے وہ ایک لفظ ہی کیوں نا ہواس غلط روش کا نا بنے ۔ وطن عزیز میں انصاف اور سچائی میں اپنامثبت کردار ادا کریں اور یہ سب کچھ لوگوں کی واہ واہ لینے کی بجائے صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے کریں۔
آخر میں انہوں نے ملک و قوم کے لئے خصوصی دعا فرمائی اور دنیا سے چلے جانے والوں کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی۔



