یوم مئی اور پاکستان پر مسلط آزاد منڈی کا سرمایہ دارانہ معاشی نظام

پرندہ جب اڑان کی ٹھان لے تو ہوا کو راستہ دینا ہی پڑتا ہے، یہ الفاظ ہیں مولانا جلال الدین رومی کے، جو ایک عالمِ دین ہونے کے ساتھ ایک صوفی بزرگ کے درجے پر فائز ہیں۔ مضمون میں آگے چل کر اس پر بھی بات ہوگی۔ گزشتہ دنوں تمام قدغنوں، حدود و قیود سے آزاد سوشل میڈیا پر چھائی جانے والی ’’فیس بک کی دوستی: حقیقت کیا، افسانہ کیا‘‘ کے عنوان سے چنداں اظہارِ خیال کیا تھا۔ اب وقت کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ عالمی سطح پر منائے جانے والے یومِ مئی، یعنی مزدوروں کے دن کو آنے میں آج 10 یا 11 دن باقی ہیں، اور ہر سال کے معمول کے مطابق اپنی فکری استعداد کے مطابق اپنا قلمی حصہ ڈالنا عقلی فرض تصور کرتا ہوں۔

جیسا کہ ہر عاقل و بالغ محنت کرنے والا فرد جانتا ہے کہ یہ واقعہ 1886ء کا ہے، جب امریکہ کے شہر شکاگو میں فولاد کے کارخانوں میں محنت کرنے والے مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا۔ یعنی 140 سال قبل پہلی مرتبہ امریکہ کے شہر شکاگو کے فولاد کے کارخانوں کو چلانے والے مزدوروں نے یومیہ 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کا مطالبہ کیا۔ یاد رہے کہ اس احتجاجی تحریک میں 70 ہزار مزدوروں نے شرکت کی، جبکہ بعد ازاں یہ تعداد لاکھوں تک جا پہنچی۔

مئی 1886ء کو جب مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کیا تو پولیس نے ان مزدوروں پر گولی چلا دی، جس کے نتیجے میں ایک مزدور ہلاک جبکہ درجنوں مزدور زخمی ہو گئے۔ 4 مئی کو مزدور دوبارہ احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے۔ اسی دوران مظاہرے کی جگہ پر پولیس بھی جمع ہونا شروع ہو گئی۔ اچانک کسی شخص نے پولیس کی جانب دھماکہ خیز مواد پھینکا، ایک زور دار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں سات پولیس اہلکاروں سمیت 4 شہری ہلاک ہو گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔

دھماکے کا الزام پولیس نے مزدور یونین پر عائد کیا اور مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ 21 جون 1886ء کو کریمنل کورٹ میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی، لیکن ملزمان کو صفائی پیش کرنے کی اجازت تک نہ دی گئی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ سماج کو بچانے کے لیے مزدوروں کو سخت سزا دی جائے۔ چنانچہ 19 اگست 1886ء کو عدالت نے سات مزدور رہنماؤں کو سزائے موت اور ایک کو عمر قید کی سزا سنائی۔ بعد ازاں شکاگو کے گورنر نے دو مزدوروں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی جبکہ باقی کی سزا برقرار رکھی گئی۔ اسی دوران سزائے موت والے مزدوروں میں سے ایک نے جیل میں خودکشی کر لی، جبکہ دیگر چار مزدور رہنماؤں کو 11 نومبر 1887ء کو پھانسی دے دی گئی۔

یعنی جامِ شہادت نوش کیا، ہمارے عقیدے کے مطابق اپنے حقوق کے مطالبے پر جان دینے والے کو شہید کا رتبہ دیا جاتا ہے۔ دو سال بعد 1889ء میں پیرس میں ’’انقلابِ فرانس‘‘ کی صد سالہ یادگاری تقریب کے موقع پر ریمنڈ لیونگ نے یہ تجویز رکھی کہ اگلے سال شکاگو کے مزدوروں کی برسی کے موقع پر عالمی سطح پر احتجاج کیا جائے۔ 1890ء کو پہلی مرتبہ عالمی سطح پر یومِ مزدور منایا گیا، جبکہ 1891ء سے یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منانے کی منظوری دے دی گئی۔

امریکہ کی ریاست اوریگن میں تو 1887ء کو ہی یومِ مزدور منانے کی منظوری دے دی گئی تھی، لیکن پورے امریکہ میں 1894ء سے وفاقی سطح پر یومِ مزدور منانے کا اعلان کیا گیا۔

یہاں تک تو چند تاریخی معلومات تھیں، جو ہر سال دہرانا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ موجودہ نسل کو علم ہو سکے کہ اس دن کی تاریخی اہمیت کیا ہے اور آج کے دور میں اس کی کیا معنویت ہے، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک میں جہاں معاشی، سماجی، مادی اور فکری استحصال کا شکار طبقہ موجود ہے۔

آج ڈیڑھ صدی ہونے کو ہے، مگر جدوجہد کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا بھر کے مزدوروں کا فیصلہ ہے کہ جب تک پوری دنیا میں اصل دستِ دولت آفرین، یعنی محنت کش طبقہ اقتدار حاصل کر کے نجی ملکیت کی لعنت اور جرائم سے پاک دنیا (سوشلسٹ نظامِ معیشت کے تحت) قائم نہیں کر لیتا، اس وقت تک سرمایہ دارانہ نظام کے استحصال کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اب ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کیا ہے اور آزاد منڈی کا تصور کیا معنی رکھتا ہے۔ اس کے لیے تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنا ہوگا۔ بائیں بازو کے مفکر سی آر اسلم کی تصنیف ’’کتابِ معیشت‘‘ میں اس حوالے سے تفصیل موجود ہے کہ انسان ابتدا میں قدیم اشتراکی نظام کے تحت زندگی بسر کرتا تھا۔ بعد ازاں نجی ملکیت کا آغاز ہوا، جس سے طاقتور اور کمزور طبقات نے جنم لیا۔ طاقتور جاگیردار اور زمیندار بن گئے جبکہ کمزور طبقہ مزدور اور مزارع کہلایا۔

وقت کے ساتھ ساتھ معاشی نظام ارتقاء پذیر ہوتا گیا. قدیم اشتراکی، قبائلی، جاگیرداری، غلام داری سے گزرتا ہوا صنعتی دور میں داخل ہوا۔ پہیے اور سکے کی ایجاد نے پیداوار اور تجارت کو فروغ دیا، مگر ساتھ ہی دولت، نفع اور استحصال کے تصورات بھی پیدا کیے، جنہوں نے معاشرے کو طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کر دیا۔

انیسویں صدی تک سرمایہ دارانہ نظام اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ اسی دوران کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز جیسے مفکرین نے اس نظام پر تنقید کرتے ہوئے سوشلسٹ معیشت کا نظریہ پیش کیا، جس میں محنت کش طبقے کو مرکزی حیثیت دی گئی۔

آج بھی یہی سرمایہ دارانہ نظام پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں عدم مساوات، بے روزگاری اور معاشی ناہمواری کو جنم دے رہا ہے۔ حالانکہ 1973ء کے آئین میں ہر شہری کو بنیادی سہولیات کی ضمانت دی گئی ہے، مگر عملی طور پر یہ حقوق اب بھی عام شہری کو میسر نہیں۔

یومِ مزدور کے موقع پر روایتی جلسے، جلوس اور تقاریر تو ہر سال ہوتی ہیں، مگر اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ محنت کش طبقے کو اس کے حقوق دلائے جائیں۔ روزگار، رہائش، تعلیم اور صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ یہ سہولیات بلاامتیاز فراہم کرے۔

آخر میں جبار آصف کے اشعار پیشِ خدمت ہیں:

ہاتھ پاؤں بھی بتاتے ہیں کہ مزدور ہوں میں
اور ملبوس بھی کہتا ہے کہ مجبور ہوں میں

سال سارا مرا کٹ جاتا ہے گمنامی میں
بس یکم مئی کو ہی لگتا ہے کہ مشہور ہوں میں

بات کرتا نہیں کوئی مری ایوانوں میں
سب کے منشور میں یوں "صاحبِ منشور” ہوں میں

یومِ مزدور ہے، چھٹی ہے، مرا فاقہ ہے
پھر بھی یہ دن تو مناؤں گا کہ مزدور ہوں میں

 

 

تحریر: پروفیسر افتخار محمود
پڑوی درویزہ، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم
فون نمبر 03065430285 – 03015430285

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Exit mobile version