77 سال گزرنے کے باوجود ہرن پورچک نظام کے درمیان شہریوں کیلئے دریائے جہلم پر پل تعمیر نہ ہو سکا

پنڈدادنخان/ جہلم 77 سال گزرنے کے باوجو د ہرن پورچک نظام کے در میان دریائے جہلم پر گاڑیوں کے لئے پل تعمیر نہ ہو سکا۔ ضلع جہلم، ضلع منڈی بہاؤالدین اور ضلع سرگودھا کے لاکھوں عوام کو ایک دوسرے اضلاع میں آنے جانے میں شدید سفری مشکلات کا سامنا، دریائے جہلم میں دوران سفر کشتیاں الٹنے سے ہرن پور چک نظام کے درمیان ، ریلوے کے وکٹوریہ پل سے گزرتے ہوئے اب تک سینکڑوں افراد دریائے جہلم میں گرنے سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم ، ضلع منڈی بہا والدین اور سرگودھا کے درمیان دریائے جہلم پر پل کی تعمیر کے لئے تینوں اضلاع کے عوام عرصہ77 سالوں سے حکمرانوں سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ جب بھی الیکشن کا وقت قریب آتا ہے تو سیاسی پارٹیوں کے رہنما دریائے جہلم پر پل بنانے کا راگ آلاپنا شروع کردیتے ہیں اور ووٹ لے کر کامیاب ہونے کے بعد ووٹرز سے فاصلے اختیار کرلیتے ہیں۔

77سالوں کے دوران دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین و امیدوار جن میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ، میاں محمد نواز شریف، سابق وزیراعظم عمران خان، میاں محمد شہباز شریف، آصف علی زرداری، سابق صدر و چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل پرویز مشرف سمیت سابق و موجودہ ارکان اسمبلی جہلم میں اپنی تقاریروں میں دریائے جہلم پر ہرن پور کے مقام پر پل بنانے کے بلند و بانگ اعلانات کر چکے ہیں اور کروڑوں کے فنڈز بھی اس حوالے سے جاری کئے گئے۔

سابق ممبر ان قومی اسمبلی نوابزادہ اقبال مہدی(مرحوم)، راجہ اسد علی خان، سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری جبکہ ضلع منڈی بہاوالدین سے منتخب ممبران قومی اسمبلی چوہدری ناصر اقبال بوسال ، پنڈدادنخان سے چوہدری نذر حسین گوندل نے پل کی تعمیر کے لئے آج بھی وقتاً فوقتاً پر عزم ہیں لیکن ابھی تک دریائے جہلم پر پل کی تعمیر کا آغاز ہی نہیں ہوسکا۔

اس کی وجہ سے ضلع جہلم ، ضلع منڈی بہاؤ الدین اور ضلع سرگودھا کے لاکھوں مکینوں کو پل نہ ہونے کی وجہ سے 60 کلو میٹر سے زائد کا اضافی سفر براستہ رسول بیراج کرنا پڑتا ہے۔ پنڈ دانخان اور ملکوال کے درمیان آمدورفت کے لئے لوگ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کشتیوں اور بیڑوں پر سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن دریا میں طغیانی اور اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے اکثر و بیشتر کشتیاں اور بیڑے دریائے جہلم میں الٹنے سے اب تک بیشمار افراد دریا کی موجوں کی نظر ہو چکے ہیں۔

پنڈ دادنخان اور منڈی بہاؤالدین کے درمیان دریائے جہلم پر ریلوے ٹرینوں کی آمد و رفت کے لئے و کٹوریہ پل تعمیر کیا گیا تھا۔ جس کے ریلوے لائن کے ایک سائیڈ پر لکڑی کے پشتوں پر موٹر سائیکل سوار اور پیدل لوگ سفر کرتے ہیں لکڑی کے پشتے خستہ حال ہو کر دریا برد ہو چکے ہیں جبکہ متعدد پشتے اپنی جگہ سے غائب ہیں جن پر سفر کرتے ہوئے اب تک بیشمار افراد دریائے جہلم میں گرنے سے جاں بحق ہو چکے ہیں متعدد کی ابھی تک لاشیں بھی برآمد نہیں ہو سکیں ۔

ضلع جہلم ، ضلع منڈی بہاؤ الدین اور ضلع سرگودھا کی عوام ایک دوسرے کے اضلاع میں آنے جانے کے لئے 60 کلومیٹر کا لمبا اور اضافی سفر طے کر کے براستہ رسول بیراج ایک دوسرے اضلاع میں آتے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مکینوں کو بہت زیادہ سفری مشکلات در پیش آتی ہیں ۔

رواں ماہ جہلم کے علاقہ سگھر پور پتن سے کشتیوں پر سفر کرنے والے افراد کشتی الٹنے سے 6 افراد دریائے جہلم میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے جبکہ گھر کا سربراہ واقعہ کی اطلاع ملنے پر اپنے گھر میں جان کی بازی ہار گیا۔

تینوں اضلاع کے لاکھوں عوام نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان اور کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر جہلم سید رملہ علی ، ڈپٹی کمشنر منڈی بہاؤالدین شاہد عمران مارتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہرن پور تا چک نظام دریائے جہلم پر پل تعمیر کروایا جائے تاکہ تینوں اضلاع کے لاکھوں لوگوں کو سفری سہولیات میسر آسکیں اور مکینوں کی زندگیاں محفوظ رہ سکیں۔

Exit mobile version