شہرِ شہداء ” جہلم ” کےعوام کی دشمن کو للکار

جب رات کی تاریکی گہری ہوتی ہے، جب دشمن گھات لگائے تاک میں ہوتا ہے، تب ایک آواز خاموش فضا میں گونجتی ہے — "لبیک یا وطن!”۔ یہی وہ صدا ہے جو پاک دھرتی کے ان سپوتوں کے سینوں سے ابھرتی ہے، جن کی رگوں میں خون نہیں، بلکہ ایمان، قربانی اور شہادت کا جذبہ دوڑتا ہے۔ اور ان ہی سپوتوں کا مسکن ہے، وہ سرزمینِ غیرت، جہلم — پاکستان کے بازوئے شمشیر زنوں کا شہر۔

جہلم صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ یہ ایمان، حوصلے اور قربانی کی لازوال داستانوں کا امین ہے۔ یہ وہ زمین ہے جہاں ماؤں نے اپنے لختِ جگر کو "وطن کی مٹی پر قربان” کرنے کے لیے جھولوں سے اتار کر وردی پہنائی۔ یہاں کے سپاہی جب سرحد پر پہرہ دیتے ہیں تو ان کے ہاتھ میں صرف بندوق نہیں ہوتی، دل میں قرآن ہوتا ہے، اور لبوں پر "لبیک یا رسول اللہ ﷺ”۔

لیکن اس معرکے میں صرف وردی والے سپاہی نہیں، بلکہ جہلم کے غیور عوام بھی پوری قوت سے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ آج جب وطن پر خطرات منڈلا رہے ہیں، دشمن جارحیت پر آمادہ ہے، تو جہلم کے عوام نے اپنے باہمی اختلافات بھلا دیے ہیں ..سیاسی نظریات، لسانی تقسیم، برادری کی حد بندی سب پیچھے رہ گئی ہے۔ اب صرف ایک شناخت باقی ہے:

"ہم پاکستانی ہیں، اور وطن کے لیے ایک ہیں!”

بازاروں میں، چوکوں پر، گلی محلوں میں ایک ہی پیغام گونج رہا ہے:

"دشمن ہوشیار رہے، جہلم کی رگوں میں ابھی بھی شہداء کا خون دوڑتا ہے!”

یہی وہ جہلم ہے، جس نے ہمیشہ وطن کی ہر پکار پر لبیک کہا ہے .. کبھی میدانِ جنگ میں، کبھی امدادی قافلوں میں، کبھی خون دے کر، کبھی جذبہ دے کر۔ آج بھی شہرِ شہداء کے یہ عوام دشمن کو للکارنے کو تیار ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

"ہمارا ایمان ہے کہ یہ ملک لاالٰہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہوا، اور اسے ہم اپنے لہو سے سینچیں گے!”

پاکستان کی سرحدیں صرف باڑوں اور مورچوں سے محفوظ نہیں، بلکہ ان محافظوں کی ایمانی غیرت اور عوامی یکجہتی سے محفوظ ہیں، جو دشمن کے ہر ناپاک عزائم کے آگے دیوار بن جاتے ہیں۔ پاک فوج نہ صرف اس ملک کی جسمانی سرحدوں کی نگہبان ہے، بلکہ اس قوم کے عزم، وقار اور نظریے کی محافظ بھی ہے۔

آج جب دشمن سازشوں میں مصروف ہے، تو جہلم کے سپوت اور عوام متحد ہو کر اعلان کر رہے ہیں کہ "اے دشمن! ہم تمہاری للکار سے نہ پہلے ڈرے تھے، نہ اب ڈریں گے — تمہاری ہر چال کو ہم اپنے ایمان اور وحدت کے ہتھیار سے ناکام بنا دیں گے!”

یہ صرف جنگی تیاری نہیں، یہ ایمانی انقلاب ہے۔

یہ صرف دفاعی رویہ نہیں، یہ قوم کی بیداری ہے۔

یہ صرف جہلم نہیں، یہ پاکستان کی روح ہے، جو دشمن کے سامنے سینہ تان کر کہتی ہے:

"میری سرحد پہ پہرا ہے ایمان کا!”

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button