لاہور میں پنجاب بھر کے سرکاری ملازمین کا احتجاج، جہلم سے گرینڈ ٹیچرز الائنس کی بھرپور شرکت

جہلم: آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) کے پلیٹ فارم سے پنجاب بھر کے سرکاری ملازمین نے لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج کا مقصد وفاقی ملازمین کی طرز پر پنجاب کے سرکاری ملازمین کو 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے سمیت دیگر جائز مطالبات کی منظوری تھا۔

اس احتجاجی مظاہرے میں جہلم کی تمام تحصیلوں سے اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ گرینڈ ٹیچرز الائنس جہلم کی قیادت ضلعی کنوینر ملک محمد افضل میر اور ضلعی کوآرڈی نیٹر احسان الٰہی شاکر نے کی، جب کہ معاون کنوینرز چوہدری وحید حیدر اور اظہر سلطان ملک کے علاوہ متعدد معروف تعلیمی و سماجی شخصیات جیسے چوہدری راشد محمود، انزک محمود، محمد رفیع راجپوت، شاہد سکندر مرزا، مبشر عباس شاہد، ملک سعید اختر، ملک اسرار احمد، ناہید جاوید، حامد بلال، گوہر عباس، مخدوم محمد قیم، محمد عدنان، طاہر محمود، ذیشان جھمٹ اور جواد الحسن نے بھی مظاہرے میں بھرپور شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرے کا آغاز مسجد شہداء لاہور سے ہوا اور ریلی کی صورت میں پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دیا گیا۔ مظاہرین نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ انہیں بھی وفاقی ملازمین کی طرح 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دیا جائے، تنخواہوں میں کم از کم 20 فیصد اضافہ کیا جائے، لیوانکیشمنٹ اور پنشن سے متعلق حالیہ ظالمانہ ترامیم کو فوری واپس لیا جائے، ایس ایس ای اساتذہ اور اے ای اوز کو مستقل کیا جائے اور سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی خالی آسامیوں پر فوری بھرتیاں کی جائیں۔

حکومت پنجاب کی جانب سے اگیگا قائدین سے مذاکرات کیے گئے جس کے بعد محرم الحرام کے تقدس اور حکومت کی درخواست پر دھرنا وقتی طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ تاہم قائدین نے واضح طور پر کہا کہ اگر 15 محرم الحرام تک مطالبات پورے نہ کیے گئے تو دوبارہ بھرپور احتجاج اور دھرنے کا آغاز کیا جائے گا۔

مظاہرین نے حکومت کو یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا آئینی و قانونی حق ہے اور وہ اپنے جائز مطالبات کے لیے متحد ہیں۔ مظاہرے کے دوران پرامن رویہ اختیار کیا گیا اور شرکاء نے حکومت کو مذاکراتی عمل کے ذریعے مسائل کے حل کی جانب لانے پر زور دیا۔

Exit mobile version